جامعہ تعلیم القرآن: ’پنج پیری مکتبۂ فکر کا مدرسہ‘

- مصنف, محمود جان بابر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی میں عاشورہ کے روز راجہ بازار میں جس جامعہ تعلیم القرآن کے باہر پرتشدد واقعات کا آغاز ہوا اس کا تعلق جماعت اشاعۃ التوحید و السنۃ کے مکتبہ فکر سے ہے۔
جماعت اشاعۃ التوحید و السنۃ مجموعی طور پر دیوبندی مکتبہ فکر کا حصہ تو ہے لیکن عقائد پر عمل کے لحاظ سے یہ باقی کے دیوبندی مکتبہ فکر سے کچھ زیادہ سخت افکار رکھتا ہے۔
کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے امیر ملا فضل اللہ نے بھی اسی مکتبہ فکر کے صوابی میں واقع جامعہ پنج پیر سے تعلیم حاصل کی۔
کہا جاتا ہے کہ جب ملا فضل اللہ سوات میں حکومت کے ساتھ برسرپیکار تھے تو پنج پیر کے عمائدین نے ان کو پرتشدد کارروائیوں سے روکنے کی کوشش کی اور انہیں بتادیا کہ ان کے طریقہ کار کی حمایت نہیں کی جاسکتی۔
تحریک طالبان پاکستان کے نئے امیرملا فضل اللہ کی فکری تربیت کا بڑا عرصہ خیبرپختونخوا میں پنج پیر (ضلع صوابی کا علاقہ) میں گزرا ہے جسے جماعت اشاعۃ توحید وسنۃ یا مقامی زبان میں پنج پیری مکتبہ فکر کہتے ہیں۔
اس تنظیم کو پنجاب اور دیگر پاکستان میں اشاعت توحید وسنۃ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
ملا فضل اللہ کے علاوہ اس وقت طالبان کے مشہور لوگوں میں سے باجوڑ ایجنسی کے مولوی فقیر اور خیبر ایجنسی کے امیر منگل باغ بھی اسی پنج پیری مکتبہ فکر یا قریب قریب سوچ کے حامل بتائے جاتے ہیں۔



