عاشورہ کے جلوس کے بعد فساد، مختلف شہروں میں کشیدگی
،تصویر کا کیپشنجمعے کے روز راولپنڈی میں ایک ماتمی جلوس کے دوران فرقہ وارانہ کشیدگی اور ہلاکتوں کے بعد کئی مقامات پر کرفیو نافذ کر دیا گیا۔
،تصویر کا کیپشنسنیچر کی صبح راولپنڈی شہر میں جانے والے بیشتر راستوں کو بند کیا گیا تھا۔
،تصویر کا کیپشنشہر بھر میں کاروباری سرگرمیاں بالکل معطل رہیں اور سکولوں میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا۔
،تصویر کا کیپشنوزیرِ اعلیٰ شہباز شریف نے راولپنڈی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ وہ لاہور ہائی کورٹ سے درخواست کریں گے کہ اس واقعے کی تحقیقات کسی سینیئر جج کی نگرانی میں کروائی جائیں۔
،تصویر کا کیپشنخبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس تصادم کے دوران آٹھ افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنراولپنڈی میں یوم عاشور کے جلوس کے دوران فرقہ وارانہ کشیدگی میں ہلاکتوں کے بعد پنجاب کے مختلف شہروں میں فسادات پھوٹ پڑے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنملتان میں سکیورٹی کی صورتحال ضلعی رابطہ افسر زاہد سلیم کے مطابق ’افواہوں کے باعث خراب ہوئی‘ جنہوں نے بتایا کہ شہر میں ’مجموعی طور پر ستائیس افراد زخمی ہوئے‘۔
،تصویر کا کیپشنملتان میں گذشتہ رات شروع ہونے والے کشیدگی کے بعد اب مشتعل مظاہرین پر قابو پانے کے لیے پولیس کے ساتھ فوج بھی تعینات ہے۔
،تصویر کا کیپشنحکام نے اہل سنت و الجماعت کے ملتان میں سربراہ انور شاہ سمیت مقامی سربراہان اور متعدد علما کو بلا کر مشتعل ہجوم کو قائل کرنے کی کوشش کی لیکن ناکامی ہوئی۔