کراچی: لیاری میں دو گروہوں کے تصادم کے بعد رینجرز کا آپریشن

کراچی کے علاقے لیاری میں دو گروہوں میں مسلح تصادم کے بعد رینجرز نے لیاری جنرل ہپستال، سنگولین، مچھر کالونی، آگرہ تاج اور بہار کالونی میں چھاپے مارے ہیں۔
رینجرز کے ترجمان کے مطابق ٹارگٹڈ کارروائیوں کے دوران بتیس ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں لیاری گینگ وار کے علاوہ سنگین نوعیت کے جرائم میں ملوث ملزمان بھی شامل ہیں۔
یہ ٹارگٹڈ کارروائیاں چنیسر گوٹھ، اورنگی، بلدیہ ٹاون، لانڈھی اور الفلاح کے علاقوں میں بھی کی گئی ہیں اور ملزمان سے شارٹ مشین گنز، رائفلیں، بڑے تعداد میں دستی بم، راکٹ لانچر اور منشیات برآمد کی گئی ہے۔
نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق رینجرز نے گزشتہ روز کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے رہنما عذیر بلوچ کے گھر پر چھاپا مارا تھا جس کے بعد اچانک فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا جس میں تین شہری ہلاک ہوئے جبکہ رات کو ٹمبر مارکیٹ کے قریب دستی بم حملے میں ایک بچہ ہلاک ہوگیا تھا۔
خیال رہے کہ کراچی میں گزشتہ ایک ماہ سے امن کی بحالی کے لیے رینجرز کی جانب سے ٹارگٹڈ کارروائیاں جاری ہیں اور ان کارروائیوں کے بعد ٹارگٹ کلنگ اور گینگ وار کے واقعات میں کمی تو آئی ہے لیکن مکمل طور پر ان کا خاتمہ نہیں ہوا ہے۔
کالعدم امن کمیٹی کے رہنما عذیر بلوچ گینگ وار کے اہم کردار ارشد پپو کے قتل کیس میں مطلوب ہیں اور عدالت ان کے کئی بار وارنٹ جاری کر چکی ہے جبکہ پولیس کا موقف ہے کہ وہ روپوش ہو چکے ہیں۔

پچھلے دنوں امن کمیٹی کے رہنما ظفر بلوچ کی ہلاکت کے بعد مقامی میڈیا میں یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ عذیر بلوچ اور بابا لاڈلہ میں اختلافات پیدا ہو گئے ہیں اورگزشتہ روز بھی فائرنگ کے واقعات اسی کشیدگی کا نتیجہ تھے تاہم پولیس اس سے اتفاق نہیں کرتی۔
ڈی ایس پی لیاری شکیل احمد کا موقف ہے کہ چھاپے کے وقت عذیر بلوچ کے لڑکے گرفتاریوں سے بچنے کے لیے بابا لاڈلہ کے زیر اثر علاقے میں داخل ہوئے تو انھوں نے سمجھا کہ مخالفین نے حملہ کردیا ہے جس کے بعد انھوں نے فائرنگ شروع کردی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیاری گزشتہ کئی سالوں سے بدامنی کا شکار ہے پہلے یہاں گینگ وار سے لوگ تنگ تھے بعد میں امن کمیٹی اور کچھی کمیونٹی میں تصادم سے کئی روز تک علاقہ میدان جنگ بنا رہا۔
رینجرز کی کارروائیوں کے ابتدائی دنوں میں یہاں صورت حال قدرے معمول پر آئی تھی لیکن اب ایک بار پر خوف و ہراس کے بادل چھا گئے ہیں۔
کراچی کے علاقے لی مارکیٹ کے قریب فائرنگ کے واقعے میں محمد افضل اور عبدالقادر نامی دو شخص ہلاک ہوگئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقتولین موٹر سائیکل پر جا رہے تھے کہ ان پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کر دی۔
ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم کا کہنا ہے کہ لیاری میں عذیر بلوچ اور بابا لاڈلہ گروپ میں اختلاف کی وجہ سے صورت حال کشیدہ ہوئی ہے تاہم پولیس اور رینجرز دونوں گروہوں کے افراد کو گرفتار کر رہی ہے اور انھیں امید ہے کہ وہاں جلد امن قائم ہو جائے گا۔
چوہدری اسلم لیاری میں گینگ وار کے خلاف بڑے عرصے سے کام کرتے رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ان گروہوں کے اغوا، بھتے اور لین دین پر اختلاف ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کو مارنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔







