خیبر پختونخوا میں حملوں کے باوجود پولیو مہم جاری

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے چھ اضلاع میں انسدادِ پولیو مہم جاری ہے جہاں تین دنوں میں پندرہ لاکھ بچوں کو حفاظتی قطرے پلائے جانے کا ہدف ہے۔
خیبر پختونخواہ میں تین روزہ مہم کا آغاز بدھ کو کیا گیا ہے۔
صوبے میں انسدادِ پولیو کی مہم کے سربراہ ڈاکٹر جان باز آفریدی نے خبر رساں ادارے اے پی پی کو بتایا کہ انسدادِ پولیو کے عالمی دن کے موقع پر جاری اس مہم میں بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، کوہاٹ، لکی مروت، پشاور اور ٹانک میں بچوں کو پولیو کے حفاظتی قطرے پلائے جائیں گے۔
<link type="page"><caption> پولیو مہم نہیں رکے گی: بل گیٹس</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/01/130120_gates_polio_pakistan_rh.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’پولیو کے خلاف سخت اقدامات کی ضرورت‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/05/130520_shaila_polio_khyber_agency_rwa.shtml" platform="highweb"/></link>
انہوں نے بتایا کہ اس مہم میں چار ہزار سے زیادہ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔ اس مہم میں لیڈی ہیلتھ ورکرز اور سرکاری اہلکار رضاکارانہ مدد کریں گے۔
تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مہم کی نگرانی کریں۔
خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ پولیو کے کیس رجسٹر کیے جا رہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ وہاں پولیو کے قطرے نہ پلایا جانا بتایا جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کئی خاندان یا تو ان قطروں کو حرام تصور کرتے ہیں یا اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ شاید یہ قطرے خاندانی منصوبہ بندی کے لیے ہیں۔
2012 میں ملک بھر سے 58 کیسز رجسٹر کیے گئے جبکہ رواں سال اب تک 46 کیسز کا اندراج ہو چکا ہے۔ ان میں سے سات کیس خیبر پختونخوا سے جبکہ 34 فاٹا سے درج کیے گئے ہیں۔
خیبر پختونخوا سے رواں سال دو کیسز پشاور سے، دو مردان، ایک کوہاٹ اور ایک مالاکنڈ سے رپورٹ ہوا ہے۔
حکام کے مطابق پاکستان میں پولیو سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ خیبر ایجنسی ہے جس کی ا ہم وجہ یہاں امن وامان کی صورت حال اور افغانستان کا سرحدی علاقہ ہونا ہے۔ خیبرایجنسی کے ساتھ افغانسان کا سرحدی علاقہ ہونے سے افغان بچے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں جس سے پولیو کا وائرس پاکستانی بچوں میں منتقل ہوجاتا ہے۔
پچھلے سال چار قومی اور چار علاقائی مہمیں چلائی گئیں، جن کے علاوہ چھوٹے پیمانے پر آگاہی کی سرگرمیاں بھی جاری رہیں۔
2011 میں جب یہ بات منظرِ عام پر آئی کہ دنیا میں پولیو کے سب سے زیادہ کیس پاکستان میں پائے گئے ہیں، تو اس مرض پر قابو پانے کے لیے حکومت اور مالی امداد فراہم کرنے والی غیر ملکی ایجنسیوں نے ہنگامی لائحہِ عمل تیار کیا۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پولیو مہم کی مخالفت میں اضافے کی اہم وجہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کی جعلی پولیو مہم بھی ہے جنہوں نے سنہ 2011 میں ا لقاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کی تلاش کے لیے ایبٹ آباد میں جعلی مہم چلائی۔ اس کے بعد پولیو مہم کے بارے میں لوگوں میں شکوک و شبہات پیدا ہوئے اور طالبان نے پولیو ورکرز اور ٹیموں پر حملے شروع کر دیے۔







