پولیو مہم کے مرکز کے قریب دھماکہ، دو ہلاک

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے نواح میں ایک دھماکے میں ایک پولیس اہلکار سمیت دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔
ابتدائی طور پر مقامی پولیس نے اس دھماکے میں پولیس کے ایک اہلکار، تین پولیس رضاکاروں اور امن کمیٹی کے دو ارکان کی ہلاکتوں کی اطلاع دی تھی تاہم اب ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ طبی حکام نے صرف دو لوگوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ بقیہ چار کو بچا لیا گیا ہے۔
مقامی پولیس نے بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ یہ دھماکہ پیر کی صبح بڈھ بیر کے علاقے سلیمان خیل میں ایک بنیادی مرکزِ صحت کے باہر ہوا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بم دفتر کے سامنے نصب کیا گیا تھا اور جس وقت دھماکہ ہوا مرکزِ صحت میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کے ارکان جمع تھے۔
سلیمان خیل کا علاقہ پاکستان کے قبائلی علاقوں کے قریب واقع ہے اور ماضی میں بھی صوبہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں پولیو کی ٹیموں پر حملے ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان میں گذشتہ کچھ عرصے کے دوران پولیو مہم میں حصہ لینے والے رضاکاروں اور ان کی حفاظت پر مامور سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
رواں برس مئی میں قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں انسداد پولیو ٹیم پر حملے میں ایک لیویز اہلکار ہلاک ہوا تھا۔ اس سے قبل اپریل میں مردان میں پولیو مہم کے کارکنان کی سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر حملے کے نتیجے میں ایک اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا تھا۔
گذشتہ سال بھی پولیو کے قطرے پلانے والے کارکنان پر کئی بار حملہ کیا گیا جس میں متعدد کارکنان ہلاک ہوئے تھے اور ان حملوں کے بعد ہی پولیو مہم میں حصہ لینے والے کارکنوں کے ساتھ پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان حملوں کے بعد اقوامِ متحدہ نے پاکستان میں جاری پولیو مہم میں شریک اپنے عملے کو واپس بلا لیا تھا اور یونیسف اور عالمی ادارۂ صحت کے فیلڈ سٹاف کو مزید احکامات تک پولیو مہم میں شرکت سے روک دیا تھا۔
پاکستان میں گذشتہ سال 58 بچوں میں پولیو کے وائرس کی تصدیق ہوئی تھی جن میں سے 27 کا تعلق خیبر پختونخوا جب کہ 20 کا تعلق فاٹا سے تھا۔
پاکستان میں انسدادِ پولیو کی مہم ایک عرصے سے جاری ہے لیکن اس کے باوجود اس وائرس کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکا۔







