پاکستان میں پولیو سے بچاؤ کی تین روزہ مہم

پاکستان میں پیر سے تین روزہ انسداد پولیو مہم شروع کی گئی ہے جس میں عالمی ادارۂ صحت کے مطابق تین کروڑ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔
عالمی ادارۂ صحت ڈبلیو ایچ او کے پاکستان میں اہلکار ڈاکٹر زبیر مفتی کے مطابق رواں سال ملک گیر سطح پر شروع کی جانے والی یہ پہلی مہم ہے جس میں قبائلی علاقوں سمیت ملک بھر میں تین روز تک جاری رہنے والی مہم کے دوران پانچ سال عمر تک کے تقریباً تین کروڑ چالیس بچوں کو پولیو وائرس سے بچاؤ کے قطرے پلائیں جائیں گے۔
انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پولہو مہم میں حصہ لینے والی ٹیموں کی حفاظت کی ذمہ داری تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کے ذمے ہے۔
’کراچی اور صوبہ خیبر پختونخوا کے وسطی علاقوں میں پولیو ٹیمیں خوف تو محسوس کر رہی ہیں لیکن کسی بھی علاقے سے رضاکاروں نے مہم میں حصہ لینے سے انکار نہیں کیا ہے۔‘
ڈاکٹر زبیر مفتی کے مطابق حالیہ مہم پولیو کے خاتمے کے حوالے سے کافی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ گرم موسم میں پولیو وائرس تیزی سے پھیلتا ہے اور سردی کے موسم میں اس کی شدت کم ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیو ٹیموں پر حملوں کے واقعات کے بعد سے پولیو مہم متاثر ہوئی ہے۔
ڈاکٹر زبیر مفتی کے مطابق رواں سال مئی سے ستمبرکے عرصے کے دوران معلوم ہو گا کہ پولیو مہم کتنی موثر رہی کیونکہ پولیو وائرس گرمیوں میں متحرک ہوتا ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان گزشتہ کچھ عرصے کے دوران پولیو مہم میں حصہ لینے والے رضاکاروں اور ان کی حفاظت پر مامور سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رواں ماہ کی دس تاریخ کو صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر مردان میں پولیو مہم کے کارکنان کی سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر حملے کے نتیجے میں ایک اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا تھا۔
گزشتہ سال پاکستان میں اٹھاون بچوں میں پولیو کا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی جن میں سے ستائیس خیبر پختونخواہ جبکہ بیس کا تعلق فاٹا سے تھا۔
پاکستان میں انسداد پولیو کی مہم ایک عرصے سے جاری ہے لیکن اس کے باوجود اس وائرس کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکا۔
پولیو ٹیموں پر حملوں پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان گی مون نے ان حملوں کو ’ظالمانہ، احساس سے عاری اور ناقابل معافی‘ قرار دیا تھا۔
گزشتہ سال پولیو کے قطرے پلانے والے کارکنان پر کئی بار حملہ کیا گیا جس میں متعدد کارکنان ہلاک ہوئے تھے اور ان حملوں کے بعد پولیو مہم میں حصہ لینے والے کارکنوں کے ساتھ پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔
ان حملوں کے بعد اقوامِ متحدہ نے پاکستان میں جاری پولیو مہم میں شریک اپنے عملے کو واپس بلا لیا ہے اور یونیسف اور عالمی ادارۂ صحت کے فیلڈ سٹاف کو مزید احکامات تک پولیو مہم میں شرکت سے روک دیا تھا۔







