صوابی: فائرنگ سے دو انسدادِ پولیو رضا کار ہلاک

صوابی میں انسداد پولیو ٹیموں پر گزشتہ تین کے ماہ دوران یہ دوسرا حملہ ہے
،تصویر کا کیپشنصوابی میں انسداد پولیو ٹیموں پر گزشتہ تین کے ماہ دوران یہ دوسرا حملہ ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کے ضلع صوابی میں حکام کا کہنا ہے کہ انسداد پولیو ٹیم پر ہونے والے ایک حملے میں دو رضاکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ اتوار کو صوابی شہر سے تقریباً پچیس کلومیٹر دور پابینی کے علاقے میں پیش آیا۔

حکام کے مطابق اس حملے کے بعد علاقے میں انسدادِ پولیو مہم غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔

صوابی پولیس کے ایک اہلکار اختر سید نے بی بی سی کو بتایا کہ دو مرد رضاکار پولیو وائرس سے بچاؤ کے لیے قطرے پلانے کے مہم میں حصہ لے رہے تھے کہ اس دوران ان پر نامعلوم مسلح افراد کی طرف سے فائرنگ کی گئی جس سے دونوں رضاکار ہلاک ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ ملزمان فائرنگ کرنے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد پولیس نے چار مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے تاہم پولیس کی طرف سے گرفتاریوں کی تصدیق نہیں کی گئی۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دو دن پہلے صوابی میں انسدادِ پولیو مہم کا افتتاح سپیکر خیبر پختون خوا اسمبلی اسد قیصر نے اپنے حجرے سے کیا تھا۔

یاد رہے کہ صوابی میں انسداد پولیو ٹیموں پر گذشتہ تین کے ماہ دوران یہ دوسرا حملہ ہے۔ اس سے پہلے کلا کے علاقے میں بھی پولیو ٹیم کی خواتین رضاکاروں پر ہونے والے حملے میں ایک پولیس کانسٹیبل مارا گیا تھا تاہم اس حملے میں خواتین ورکرز محفوظ رہیں تھیں۔

خیال رہے کہ حکومت پاکستان کو ملک اور خصوصاً قبائلی علاقہ جات میں پولیو کے خاتمے کےحوالے سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے جس کی بڑی وجہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پولیو ٹیموں پر کیے جانے والے حملے ہیں جن میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پولیو مہم کی مخالفت میں اضافے کی اہم وجہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کی جعلی پولیو مہم بھی ہے جنہوں نے سنہ مبینہ طور پر 2011 میں القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کی تلاش کے لیے ایبٹ آباد میں جعلی مہم چلائی تھی جس کے بعد پولیو کےحوا لے سے لوگوں میں شکوک و شبہات پیدا ہوئے اور شدت پسندوں نے پولیو ورکرز اور ٹیموں پر حملے شروع کر دیے۔