پشاور میں مزید چوکیاں قائم کرنے کا فیصلہ

فرنٹیئرکور کے پاس تلاشی اور گرفتاری کے اختیارات نہیں ہیں: ترجمان
،تصویر کا کیپشنفرنٹیئرکور کے پاس تلاشی اور گرفتاری کے اختیارات نہیں ہیں: ترجمان

خیبر پختونخوا حکومت نے صوبائی دارالحکومت پشاور میں قبائلی علاقوں کے ساتھ شہری مقامات پر فرنٹییر کور یا نیم فوجی دستوں کو پولیس کے ہمراہ شہر میں گشت کرنے کی ذمہ داری سونپنے کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومت نے قبائلی علاقوں کے ساتھ مذید پولیس چوکیاں قائم کرنے کی منظوری بھی دے دی ہے ۔

فرنٹیئر کور اور پولیس کی مشترکہ گشت اور ذمہ داریوں کے تعین کے بارے میں اہم اجلاس آج پشاور میں منعقد ہوا ہے جس میں یہ فیصلہ کیاگیا ہے کہ پشاور کے ان علاقوں میں جو خیبر ایجنسی سمیت دیگر قبائلی علاقوں کی سرحد کے ساتھ ملتے ہیں وہاں دونوں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار مشترکہ گشت کریں گے ۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے ترجمان شیراز پراچہ نے بی بی سی کو بتایا کہ فرنٹیئرکور کے پاس اس وقت سرچ یا تلاشی اور گرفتاری کے اختیارات نہیں ہیں اس لیے ایف سی کے ساتھ پولیس کے اہلکار بھی گشت کریں گے اور جہاں سرچ یا گرفتاری کرنا مقصود ہوگی تو پولیس یہ کام کر سکے گی ۔

انھوں نے کہا کہ پشاور کے بڑے رہائشی علاقے حیات آباد کے ساتھ ملنے والی خیبر ایجنسی کی سرحد پر بھی فرنٹیئر کور کے اہلکار تعینات کیے جائیں گے تاکہ شدت پسند اور دہشتگرد قبائلی علاقوں سے آکر شہری علاقوں میں کارروائیاں نہ کر سکیں۔

فرنیٹئر کور کے اہلکاروں کو تھانوں میں تعینات کرنے کا منصوبہ نہیں: ترجمان وزیر اعلیٰ
،تصویر کا کیپشنفرنیٹئر کور کے اہلکاروں کو تھانوں میں تعینات کرنے کا منصوبہ نہیں: ترجمان وزیر اعلیٰ

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شہری علاقوں میں اکثر کارروائیاں قبائلی علاقوں سے آکر لوگ کرتے ہیں اور پھر ان علاقوں کی جانب فرار ہو جاتے ہیں۔

خیبر ایجنسی سمیت دیگر قبائلی علاقوں میں فوج اور فرنٹییر کور پہلے سے تعینات ہے جبکہ سرحدی علاقوں میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکار بھی موجود ہوتے ہیں۔

یہاں ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ فرنٹیئر کور کے اہلکار شہر کے ان چار بڑے تھانوں میں تعینات ہوں گے جو ان قبائلی علاقوں کی سرحد کے قریب واقع ہیں جن میں بڈھ بیر تھانہ ، متنی تھانہ ، ریگی اور متھرا تھانے شامل ہیں۔

سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ۔ شیراز پراچہ نے بتایا کہ اس میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ ایف سی کے اہلکار تھانوں میں تعینات ہوں گے بلکہ ایف سی اور پولیس مخصوص علاقوں میں مشترکہ گشت کریں گے۔

پشاور میں امن و امان کی صورتحال اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ سے صوبائی حکومت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو متحرک کر دیا ہے ۔ صوبے میں پولیس نظام کو بہتر کرنے کے علاوہ انسداد دہشت گردی فورس قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے ۔

انسداد دہشت گردی فورس جلد کام شروع کردے اس کے لیے حکام ابتدائی طور پر پولیس کی ایلیٹ فورس کے ایک ہزار اہلکاروں کو تربیت دے کر فورس قائم کر دے گی جس کے بعد مذید بھرتیوں کے لیے کوششیں کی جائیں گی ۔

خیبر پختونخوا میں پولیس ، فرنٹیئر کانسٹیبلری ، ایلیٹ فورس پہلے سے ہی موجود ہے جبکہ کبھی کبھار نیم فوجی دستوں ایف سی کی خدمات بھی حاصل کی جاتی ہیں۔