پشاور میں پھر سے ناقابل شناخت لاشیں ملنے کے واقعات

گذشتہ سال اسی نوعیت کے واقعات کا پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ازخود نوٹس بھی لیا تھا
،تصویر کا کیپشنگذشتہ سال اسی نوعیت کے واقعات کا پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ازخود نوٹس بھی لیا تھا

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے مختلف مقامات سے ایک بار پھر ناقابل شناخت لاشیں ملنا شروع ہو گئی ہیں۔

گذشتہ سال پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے از خود نوٹس لینے کے بعد لاشوں کے ملنے کے واقعات میں کمی آ گئی تھی، لیکن اب مزید دو لاشیں بھانہ ماڑی پولیس تھانے اور چمکنی تھانے کی حدود سے ملی ہیں۔

چمکنی تھانے کے پولیس اہلکار نے بتایا ہے کہ پیر کی رات کو ایک نوجوان کی لاش نالے سے ملی، جس کا سر نہیں تھا اور جسم پر تشدد کے نشانات تھے۔ لاش کی شناخت نہیں ہو سکی۔

اسی طرح سنیچر کو ایک لاش بھانہ ماڑی کی حدود میں رنگ روڈ سے ملی ہے۔

پولس نے بتایا ہے کہ لاش دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ یہ جوان شخص تھا اور اسے گولی مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔

سپرانٹنڈنٹ پولیس اسماعیل کھڑک نے بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو بتایا کہ دونوں لاشوں کو امانتاً دفن کر دیا گیا ہے اور ورثا کی تلاش کے علاوہ ملزمان کو گرفتار کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ پشاور سے نامعلوم افراد کی لاشیں ویران علاقوں سے ملی ہیں۔اس سے پہلے بھی اس طرح کے کئی واقعات ہو چکے ہیں۔

گذشتہ سال اگست سے پہلے معمول سے بوری بند لاشیں ملنا شروع ہو گئی تھیں اور ایک ماہ میں اطلاعات کے مطابق بیس سے بائیس لاشیں ملی تھیں جس کے بعد پشاور ہائی کورٹ نے ان بڑھتے ہوئے واقعات پر ازخود نوٹس لے لیا تھا۔

ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کے اعلیٰ حکام کو طلب کیا تھا جس کے کچھ عرصے بعد تک لاشیں ملنے کے واقعات پیش آتے رہے۔ چند ماہ پہلے ان واقعات میں کمی واقع ہوئی تھی لیکن اب ایک مرتبہ پھر یہ سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

پشاور ہائی کورٹ میں لاپتہ افراد کے مقدمہ بھی زیرِسماعت ہے جہاں سینکڑوں افراد ہر ماہ اپنے پیاروں کی تلاش میں عدالت پہنچتے ہیں۔

گذشتہ دنوں ملنے والی دونوں لاشوں کے بارے میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا جن افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں وہ لاپتہ افراد میں شامل تھے یا انھیں ذاتی دشمنی کے نتیجے میں ہلاک کیا گیا ہے۔