ملالہ کے لیے سخاروف ہیومن رائٹس ایوارڈ، نوبیل کا فیصلہ کل

خواتین کو تعلیم کا حق دلانے کے لیے کوشاں پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی نے یورپی یونین کا سخاروف ہیومن رائٹس ایوارڈ جیت لیا ہے۔
آزادیِ اظہار کے لیے دیا جانے والا یورپی یونین کا یہ ایوارڈ روسی ماہرِ طبیعیات آندرے سخاروف کی یاد میں دیا جاتا ہے۔
پچاس ہزار یورو مالیت کا یہ ایوارڈ یورپ میں حقوقِ انسانی کا سب سے بڑا ایوارڈ مانا جاتا ہے۔
اس سال اس ایوارڈ کے لیے ملالہ کے علاوہ امریکہ کی جانب سے نگرانی کے پروگرام کا راز افشا کرنے والے اہل کار ایڈورڈ سنوڈن بھی نامزد تھے۔
ماضی میں یہ عالمی ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں برما میں جمہوریت کی خاطر زندگی وقف کر دینے والی سیاستدان آنگ سان سوچی سمیت دنیا کی کئی نامور شخصیات شامل ہیں۔
ملالہ یوسفزئی کو اس سال امن کے نوبیل انعام کے لیے بھی نامزد کیا گیا ہے جس کا فیصلہ جمعہ گیارہ اکتوبر کو ہوگا۔
سخاروف ایوارڈ سے قبل ملالہ کو کئی عالمی ایوارڈ مل چکے ہیں۔
گذشتہ ماہ ہی انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انہیں 2013 کے لیے ’ضمیر کا سفیر‘ قرار دیا تھا جبکہ ہالینڈ کی تنظیم ’کڈز رائٹس فاؤنڈیشن‘ کی جانب سے انہیں ’انٹرنیشنل چلڈرنز پیس پرائز‘ بھی دیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ملالہ نے اپنی سولہویں سالگرہ پر رواں برس ہی اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب بھی کیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ شدت پسندی کا خاتمہ تعلیم کے فروغ ہی سے ممکن ہے۔
پاکستان کی وادی سوات سے تعلق رکھنے والی ملالہ یوسفزئی کو خواتین کے لیے تعلیم عام کرنے کی کوششوں پر طالبان نے اکتوبر 2012 میں نشانہ بنایا تھا۔اس حملے میں زخمی ہونے کے بعد ان کا ابتدائی علاج پاکستان میں کیا گیا اور بعد میں انہیں برطانیہ منتقل کردیا گیا جہاں اب وہ مقیم ہیں۔
ملالہ یوسفزئی نے 2009 میں سوات سے بی بی سی اردو کے لیے اس وقت ڈائری لکھی تھی جب یہ علاقہ طالبان کے زیرِ اثر تھا۔ اس وقت تو انہوں نے یہ ڈائری ایک فرضی نام سے تحریر کی تھی تاہم بعد میں انہوں نے منظرِ عام پر آنے کا فیصلہ کیا تھا۔







