سندھ میں سکائپ اور وائبر پر پابندی کی سفارش

جن ایپلیکشنز کی بندش کی سفارش کی گئی ہے وہ انٹرنیٹ کے ذریعے صوتی و بصری رابطے کے لیے استعمال ہوتی ہیں
،تصویر کا کیپشنجن ایپلیکشنز کی بندش کی سفارش کی گئی ہے وہ انٹرنیٹ کے ذریعے صوتی و بصری رابطے کے لیے استعمال ہوتی ہیں

پاکستان کے صوبہ سندھ کی حکومت نے کراچی میں شدت پسندوں اور جرائم پیشہ افراد کے مابین رابطے ختم کرنے کے لیے انٹرنیٹ پر بات چیت کی مقبول ایپلیکشنز سکائپ، وائبر، واٹس ایپ اور ٹینگو پر تین ماہ کے لیے پابندی لگانے کی سفارش کی ہے۔

تاہم وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ وہ ذاتی طور پر اس پابندی کے حامی نہیں اور حکومتِ سندھ کی درخواست ملنے پر ان کے موقف کا جائزہ لیا جائے گا۔

صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے جمعرات کی شام کراچی میں ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ سکیورٹی اور بہتر نگرانی کے مدِنظر حکومتِ سندھ انٹرنیٹ کے ذریعے رابطوں کے اپیلیکشنز ’واٹس ایپ‘،’ٹینگو‘، اور سکائپ پر حکومتِ سندھ پابندی لگائے گی۔

انہوں نے کہا ہے کہ ان ایپلیکشنز پر تین ماہ تک پابندی لگانے کے لیے وفاقی حکومت سے باضابطہ درخواست کر دی گئی ہے۔

ادھر پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ابھی سکائیپ، وائبر، واٹس ایپ اور دیگر نیٹ ورکس پر پابندی لگانے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

جمعرات کی شب آنے والے بیان کے مطابق وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ وہ ذاتی طور پر بھی اس پابندی کے حق میں نہیں اور انہوں نے وزیر بننے کے بعد موبائل سروس کی معطلی کا سلسلہ بھی بند کیا تھا کیونکہ اس سے انسدادِ دہشتگردی میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔

پاکستان میں اس سے پہلے اہم سرکاری چھٹیوں اور مذہبی تہواروں کے موقع پر ملک میں موبائل سروس عارضی طور پر معطل کی جاتی رہی ہے تاکہ کسی شدت پسندی کا کوئی واقعہ رونما نہ ہو سکے۔

بیان کے مطابق اس پابندی کے سلسلے میں جب حکومتِ سندھ کی جانب سے کوئی تجویز وزارت کے پاس آئے گی تو دیکھا جائے گا کہ ان کے موقف میں کتنا وزن ہے۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق وزیرِ اطلاعات نے کراچی میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ شدت پسندوں کی موبائل فون کے ذریعے ہونے والی گفتگو پر نظر رکھی جا سکتی ہے لیکن اب یہ عناصر انٹرنیٹ کی سہولیات کا استعمال کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق ’موبائل فونز اور کمپیوٹرز پر وائی فائی کی مدد سے سکائپ، ٹینگو اور وائبر پر بات چیت ممکن ہو سکتی ہے اور اس صورت میں ہمارے لیے بات چیت کی نگرانی کرنا ممکن نہیں رہتا۔‘

انہوں نے کہا کہ ان سہولیات پر پابندی سے شہریوں کو تکلیف ہو گی لیکن وہ اس پر معذرت کرتے ہیں۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں امن و امان کی صورتحال گزشتہ کئی سالوں سے خراب ہے اور گزشتہ ماہ کراچی میں منعقدہ وفاقی کابینہ کے ایک خصوصی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ شہر میں نیم فوجی سکیورٹی ادارے رینجرز کی مدد سے ٹارگٹڈ آپریشن کیا جائے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں اس سے پہلے متنازع مذہبی مواد کی بنیاد پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک کو بند کیا جا چکا ہے جبکہ اسی بنیاد پر ویڈیو شیئرنگ کی سب سے بڑی ویب سائٹ یوٹیوب پر گزشتہ ایک سال سے پابندی ہے۔