یو ٹیوب پر پابندی کا ایک سال

پیغمبرِ اسلام کے بارے میں قابلِ اعتراض فلم ’انوسنس آف مسلمز‘کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے ہوئے
،تصویر کا کیپشنپیغمبرِ اسلام کے بارے میں قابلِ اعتراض فلم ’انوسنس آف مسلمز‘کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے ہوئے

پاکستان میں حکومت کی جانب سے ایک برس قبل بند کی جانے والی ویڈیو سٹریمنگ ویب سائٹ یو ٹیوب پر اب بھی پابندی ہے۔ اس سال میں یو ٹیوب کی بحالی کے لیے کیا کیا گیا اور کیا نہیں کیا گیا۔

چودہ ستمبر 2012

پیغمبرِ اسلام کے بارے میں قابلِ اعتراض فلم ’انوسنس آف مسلمز‘کے خلاف پاکستان بھر میں مظاہرے ہوئے جن میں تئیس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔

سترہ ستمبر

پاکستانی وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے حکم پر انٹرنیٹ پر توہین آمیز فلم چلانے والی سماجی ویب سائٹ یو ٹیوب تک رسائی بند کر دی گئی۔ اس بندش کی وجہ یو ٹیوب کی جانب سے توہین آمیز فلم نہ ہٹانے کا فیصلہ بتائی گئی۔

اس سے قبل چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے از خود نوٹس لیتے ہوئے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو فوری طور پر ملک میں انٹرنیٹ سے پیغمبر اسلام پر متنازع فلم کو ہٹانے کا حکم دیا تھا۔

دو اکتوبر

یو ٹیوب تک رسائی پاکستانی وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے حکم پر بند کر دی گئی
،تصویر کا کیپشنیو ٹیوب تک رسائی پاکستانی وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے حکم پر بند کر دی گئی

حکومت کی جانب سے یو ٹیوب پر پابندی کے بعد گوگل کی دیگر سروسز متاثر ہوئیں۔ کئی سروسز تک رسائی میں دیر لگتی تھی یا پھر سرے سے رسائی حاصل ہو نہیں سکتی تھی۔

نو نومبر

وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے یو ٹیوب پر لگی پابندی کے فیصلے پر نظر ثانی کے لیے کمیٹی قائم کردی۔

اٹھائیس دسمبر

وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں دعویٰ کیا کہ پاکستان میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ یو ٹیوب تک رسائی پر بندش آئندہ چوبیس گھنٹوں میں ختم ہو جائےگی۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ انہوں نے پی ٹی اے کے ساتھ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی ہے اور’اچھی خبر یہ ہے کہ یو ٹیوب چوبیس گھنٹوں میں کھول دی جائے گی۔‘

انتیس دسمبر

پاکستان میں یو ٹیوب پر کئی ماہ سے عائد پابندی ختم ہونے کے صرف دو گھنٹے بعد ہی پہلا حکم واپس لیتے ہوئے یو ٹیوب پر ایک مرتبہ پھر پابندی لگانے کا حکم جاری کر دیاگیا۔

سنیچر کو سہ پہر کے وقت پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی( پی ٹی اے) نے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کی وزارت کی جانب سے ایک حکم نامہ وصول ہونے کے بعد یو ٹیوب تک رسائی پر پابندی ختم کر دی تھی۔ مگر اس کے تقریباً دو گھنٹے بعد اس حکم نامے کو واپس لے لیا گیا اور یو ٹیوب ایک مرتبہ پھر پابندی کی زد میں آگئی۔

چھبیس جون 2013

پشاور ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو حکم دیا کہ وہ بین الوزارتی کمیٹی کی اس تجویز پر عمل درآمد کرے جس کے تحت پاکستان گوگل، یو ٹیوب اور دیگر سروسز کے ساتھ پاکستان میں دفاتر کھولنے کے معاہدے کیے جا سکیں۔

پانچ جولائی

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یو ٹیوب پر پابندی شہریوں اور خاص طور پر طلبہ کو متاثر کر رہی ہے۔ انہوں نے حکومت سے کہا کہ آئی ٹی ماہرین کے ساتھ مل کر اس مسئلے کا حل نکالیں اور 25 جولائی کو رپورٹ پیش کی جائے کہ کس طرح صرف توہین آمیز ویب سائٹس کو روکا جا سکتا ہے۔

سولہ جولائی

وزارت انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی اور پی ٹی اے نے لاہور ہائی کورٹ کو بتایا کہ متنازع مواد کو بلاک کرنے کی کوئی ٹیکنالوجی موجود نہیں ہے۔

تئیس جولائی

وزارت انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی اور پی ٹی اے نے لاہور ہائی کورٹ کو بتایا کہ متنازع مواد کو بلاک کرنے کی کوئی ٹیکنالوجی موجود نہیں ہے
،تصویر کا کیپشنوزارت انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی اور پی ٹی اے نے لاہور ہائی کورٹ کو بتایا کہ متنازع مواد کو بلاک کرنے کی کوئی ٹیکنالوجی موجود نہیں ہے

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے حکومت کو تجویز پیش کی کہ وہ ایک قانون بنائے جس کے تحت ایک خودمختار ڈیپارٹمنٹ تشکیل دیا جائے جس کے پاس توہین آمیز ویب سائٹس کو بلاک کرنے کے اختیارات ہوں۔

پانچ اگست

وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یو ٹیوب سے اس وقت پابندی اٹھائی جائے گی جب تک انٹرنیٹ پر موجود تمام متنازع مواد کو بلاک کر دیا جائے۔

تئیس اگست

ممبر قومی اسمبلی اویس لغاری نے یو ٹیوب پر لگائی گئی پابندی پر سوال اٹھایا اور کہا کہ بجائے اس کے کہ حکومت فلٹر سے توہین آمیز فلم کو بلاک کرے وہ شتر مرغ کی طرح ریت میں سر چھپائے ہوئے ہے۔