پشاور: سریع الحرکت فورس کے قیام کا فیصلہ

’پولیس کو غیر ضروری ڈیوٹیوں سے فارغ کرکے انھیں امن و امان کے لیے شہر میں تعینات کیا جائےگا‘
،تصویر کا کیپشن’پولیس کو غیر ضروری ڈیوٹیوں سے فارغ کرکے انھیں امن و امان کے لیے شہر میں تعینات کیا جائےگا‘

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کے دارالحکومت پشاور میں پے در پے دھماکوں کے بعد صوبائی حکومت نے سریع الحرکت فورس قائم کرنے اور خفیہ اداروں اور قانون نافذ کرنے والے ادراوں کا اجلاس روزانہ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس کے علاوہ صوبائی حکومت دھماکہ خیز مواد سونگھ کر نشاندہی کرنے والے پچاس کتے خرید رہی ہے اور پبلک پولیسنگ کا نظام متعارف کرا رہی ہے۔

وزیر اعلٰی خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے سکیورٹی بڑھانے کے لیے ان اقدامات کی منظوری دے دی ہے جبکہ منگل کو اس سلسلے میں سیکریٹریٹ کی سطح پر اور انسپکٹر جنرل پولیس نے پولیس افسران کے ساتھ علیحدہ علیحدہ اجلاس منعقد کیے۔

<link type="page"><caption> پشاور: ہلاکتیں 42، ’مزید حملوں کا خطرہ ہے‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/09/130930_peshawar_bombing_death_toll_rises_rk.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> پشاور: بم دھماکے میں38 افراد ہلاک، 92 زخمی</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/09/130929_peshawar_bomb_attack_rk.shtml" platform="highweb"/></link>

وزیر اعلیٰ کے ترجمان شیراز پراچہ نے بی بی سی کو بتایا کہ امن و امان کے حوالے سے دو روز میں تین اجلاس ہوئے ہیں جن میں سکیورٹی کے لیے اقدامات کی منظوری دی گئی ہے ۔

صوبے میں فوری طور پر فوج سے پچاس ایسے کتے خریدے جائیں گے جو دھماکہ خیز مواد سونگھ کر اس کی نشاندہی کریں گے اور یہ کتے پہلی مرتبہ اہم شخصیات نہیں بلکہ عوامی مقامات کے تحفظ کے لیے ہوں گے۔

پولیس کو غیر ضروری ڈیوٹیوں سے فارغ کر کے انھیں امن و امان کے لیے شہر میں تعینات کیا جائےگا اور محکمۂ پولیس میں مزید بھرتیاں بھی کی جائیں گی۔

خیبر پختونخوا میں دس سالوں میں بیشتر پولیس تھانوں کی نفری میں اضافے کے بجائے کمی واقع ہوئی ہے۔

شیراز پراچہ کے مطابق کسی بھی واقعے سے نمٹنے کے لیے فوری کارروائی کرنے والی سریع الحرکت فورس قائم کی جا رہی ہے اور فرنٹیئر کانسٹبلری کو مرکز اور دیگر صوبوں سے واپس خیبر پختونخواہ بلایا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اب انٹیلیجنس اداروں کے حکام اور پولیس کے ساتھ ساتھ دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اجلاس روزانہ کی بنیاد پر منعقد ہوں گے جن میں سکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا اور لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ صوبے میں پبلک پولیسنگ کا نظام متعارف کرا دیا گیا ہے ۔ شہر میں ابتدائی طور پر بڑے بڑے بینرز آویزاں کر دیے گیے ہیں جن پر عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مشتبہ افراد پر نظر رکھیں اور پولیس کو اس بارے میں مطلع کریں۔

شیراز پراچہ کے مطابق اس نظام کے میں تمام سول سوسائٹی کے اداروں کو شامل کیا جائے گا جن میں عوامی تنظیمیں اور غیر سرکاری تنظیمیں، تاجر ، نوجوانوں اور وکلا کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔

اس بارے میں ایک ویب سائٹ بھی قائم کی جا رہی ہے۔

گذشتہ دس دنوں میں پشاور میں تین بڑے دھماکوں میں ایک سو اکتالیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ڈھائی سو سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

اتوار 22 ستمبر کو چرچ پر حملوں میں ستاسی افراد ہلاک ہوئے جبکہ سرکاری ملازمین کی بس میں دھماکے سے بارہ افراد ہلاک ہوئے اور قصہ خوانی کار بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بیالیس ہے۔

شہر میں ان حملوں کے بعد خوف پایا جاتا ہے ۔ مختلف مقامات پر ناکوں پر چیکنگ بڑھا دی گئی ہے جس سے سڑکوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں موجود رہتی ہیں۔