پشاور کے چرچ میں خودکش دھماکوں کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں مسیحی برادری کا احتجاج۔
،تصویر کا کیپشنپشاور میں ایک چرچ پر دو خودکش حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں میں مسیحی برادری نے احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنپیر کو اسلام آباد، پشاور، کراچی، لاہور، حیدرآباد سمیت مختلف شہروں میں احتجاج مظاہرے ہو رہے ہیں اور کراچی کے علاقے عیسیٰ نگری میں مظاہرین پر پولیس نے شیلنگ بھی کی ہے۔
،تصویر کا کیپشنچرچ میں ہونے والے خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد اسی ہو گئی ہے جبکہ وفاقی اور خیبر پختونخوا کی حکومت نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنپشاور میں مسیحی برادری کا احتجاج لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کے باہر سے شروع ہوا۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان میں اس سے پہلے بھی مسیحی برادری کو شدت پسندی کے واقعات میں نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ مظاہرے کے دوران مشتعل نوجوانوں نے ٹائروں کو آگ لگائی۔
،تصویر کا کیپشنصوبہ پنجاب میں ماضی میں مسیحی برادری پر توہینِ مذہب کے الزامات کے بعد متعدد بار حملے ہو چکے ہیں۔ پشاور دھماکوں کے خلاف صوبائی دارالحکومت لاہور میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے۔
،تصویر کا کیپشنمظاہروں میں شامل بچوں سمیت تمام افراد نے مسیحی برادری کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
،تصویر کا کیپشنوفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مظاہرین نے سڑک پر ٹائر جلا کر کچھ دیر کے لیے اہم شاہراہ بھی بلاک کر دی۔
،تصویر کا کیپشنکراچی میں ایک احتجاجی مظاہرے میں شامل خواتین اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکیں۔
،تصویر کا کیپشنایک مظاہرے میں شامل شرکا نے ہلاک شدگان کی یاد میں شمعیں روشن کیں۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان میں شدت پسندی کے واقعات کے بعد سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی جاتی ہے۔ پشاور دھماکوں کے بعد کراچی کے ایک چرچ کے باہر پولیس اہلکار پہرہ دے رہے ہیں۔