وزیراعظم کی مصرفیات اور براہ راست کوریج

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں امن و امان کی خراب صورتحال کا چرچا مقامی ذرائع ابلاغ میں خوب رہا ہے۔
اس کی ایک وجہ وزیر اعظم نواز شریف کا کراچی شہر میں موجود ہونا بھی ہے جہاں انہوں نے مختلف سیاسی جماعتوں اور سکیورٹی اداروں سے ملاقات کی ہے جس میں شہر میں امن بحال کرنے کی حکمت عملی کی تشکیل دینا شامل ہے۔
بدھ کو وزیراعظم کی صدارت میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں آئی ایس آئی کے سربراہ اور ڈی جی رینجرز سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
اسی دوران خبر آئی کہ شہر میں فائرنگ کے ایک واقعے میں نیوی کے ایک کپتان ہلاک ہو گئے، جب کہ لیاری میں فائرنگ کے واقعے میں رینجرز کا ایک اہلکا ہلاک ہو گیا۔
ان خبروں کے دوران ہی وزیر اعظم نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کے لیے ایک خصوصی سیشن کا اہتمام کیا اور شہر میں امن کی بحالی پر بات کی۔
اس بات چیت کی سرکاری اور نجی میڈیا پر براہ راست نشریات کو شروع ہوئے ابھی کچھ وقت ہی ہوا تھا کہ ایک نجی ٹی وی چینل کے نمائندے نے نیوی افسر کی ہلاکت کی کوریج کے دوران نیوی اہلکاروں کی جانب سے بدسلوکی کی بات کی اور بتایا کہ شہر میں یہ سب کچھ بھی ہو رہا ہے۔
ابھی نامہ نگار کی بات جاری ہی تھی کہ فوراً براہ راست نشریات منقطع ہو گئیں اور اس کے بعد دوبارہ سے تمام ذرائع ابلاغ نے وزیراعظم کے دورے کے ایجنڈے اور مصروفیات کے بارے میں بتانا شروع کر دیا۔
اس کے کچھ دیر بعد وزیراعظم کی صدارت میں کراچی کی صورتِ حال پر وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس شروع ہوا اور اس کی بھی براہ راست کوریج ٹی وی چینلوں پر کی جا رہی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہر میں پولیس کی کارکردگی کے بارے میں بتانا شروع کیا اور ساتھ ہی نیم فوجی دستے رینجرز کے حکام سے ہونے والی ملاقات اور اس میں رینجرز کو امن کی بحالی میں حائل مسائل کے بارے میں شروع کیا۔
ابھی وزیر اعظم نے بات ہی شروع کی کہ اچانک انہوں نے اجلاس میں شریک افراد کو دیکھتے ہوئے کہا کہ ’یہ غیر ضروری لوگ باہر چلے جائیں‘۔
اس کے ساتھ ہی ایک بار پھرسرکاری ٹی وی اور نجی وی چینل پر اس اجلاس کی براہ راست کوریج کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔ اور ایک بار پھر وزیراعظم کی کراچی میں مصروفیات اور ایجنڈے اور ترجیحات اور کراچی میں امن کی بحالی کی کوششوں کا ذکر شروع ہو گیا۔ اس کے کچھ دیر بعد وزیراعظم کے اجلاس میں خطاب کے ٹِکرز نشر ہونا شروع ہو گئے۔







