شمالی وزیرستان: ڈرون حملے میں تین ہلاک

پاکستان ڈرون حملوں کے خلاف کئی بار سفارتی سطح پر احتجاج کر چکا ہے
،تصویر کا کیپشنپاکستان ڈرون حملوں کے خلاف کئی بار سفارتی سطح پر احتجاج کر چکا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں امریکی جاسوس طیارے کے حملے میں کم از کم تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے ڈرون حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اپنے موقف کو پھر دہرایا ہے کہ یک طرفہ ڈرون حملوں سے دونوں ممالک کے تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور یہ حملے ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف ہیں۔

شمالی وزیرستان میں مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈرون حملہ سنیچر کو شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی کے علاقے مسوکئی میں ہوا۔

حکام کے مطابق ایک مدرسے پر ڈرون سے دو میزائل فائر کیے گئے جس میں تین افراد ہلاک جبکہ دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔

حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے تینوں افراد غیر ملکی تھے تاہم ابھی تک ان کی شہریت کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا ہے۔

یہ ڈرون حملہ ایک ایسے وقت پر ہوا ہے جب ملک کے ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار نے بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے حکومت اور پاکستانی طالبان کے درمیان مذاکرات کی تصدیق کی تھی او کہا تھا کہ ’ان سے پہلے ہی فائدہ ہونا شروع ہوگیا ہے‘۔

اہلکار کے مطابق رواں سال مئی میں امریکی ڈرون حملے میں کالعدم تحریک طالبان کے دوسرے اعلیٰ رہنما مولوی ولی الرحمان کی ہلاکت سے مذاکراتی عمل کو جو نقصان پہنچا تھا اس کا منفی اثر اب ذائل کر دیا گیا ہے۔ ’اس کے بعد کافی تگ و دو کے بعد مذاکرات کے لیے رابطے دوبارہ بحال کر دیے گئے ہیں۔‘

رواں ماہ کے آغاز میں امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری کے دورہ پاکستان کے دوران دونوں ممالک نے مذاکرات کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔ یہ موجودہ دورے حکومت میں یہ کسی بڑے امریکی عہدیدار کا پاکستان کا پہلا دورہ تھا اور اس میں جان کیری نے کہا تھا کہ ڈرون حملے نہیں رکیں گے اور امریکہ کے دشمنوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

ملک میں نئی حکومت کے قیام کے بعد ہونے والا پہلا ڈرون حملہ سات جون کو ہوا۔ اس حملے میں شمالی وزیرستان میں سات افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس حملے کے بعد پاکستان نے امریکی سفارتخانے کے ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج کیا تھا اور ڈرون حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

پاکستان میں امریکی ڈرون طیاروں کے میزائل حملوں کا سلسلہ کئی برس سے جاری ہے اور اس میں جہاں تحریکِ طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود، نائب امیر ولی الرحمن، اہم کمانڈر مولوی نذیر اور قاری حسین کے علاوہ القاعدہ کے کئی اہم رہنما مارے گئے ہیں وہاں عام شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

پاکستان میں حکومت کی جانب سے سرکاری طور پر ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج کیا جاتا ہے اور اسے ملکی سالمیت کی اصولی خلاف ورزی اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فائدے سے زیادہ نقصان پہنچانے والا حربہ قرار دیا جاتا ہے جبکہ امریکہ ڈرون حملوں کے استعمال کو منصفانہ جنگ قرار دیتا ہے۔