کراچی کے لیے ’امن حکمتِ عملی‘ کی تیاری

وفاقی وزیر نے کہا کہ کراچی میں شر پسندوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہو گی
،تصویر کا کیپشنوفاقی وزیر نے کہا کہ کراچی میں شر پسندوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہو گی

پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات پرویز رشید نے کہا ہے کراچی کے لیے ’امن حکمتِ عملی‘ پر کافی کام ہو چکا ہے جسے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کے بعد حتمی شکل دی جائے گی۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات نے کہا کہ منگل کو کراچی میں وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس ہو گا جس میں کراچی کے لیے پیس سٹریٹیجی یا ’امن حکمتِ عملی‘ اور شہر کے امن و امان کی صورتِ حال پر غور کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کے بعد کراچی کے لیے ’امن حکمتِ عملی‘ کو حتمی شکل دی جائے گی۔

<link type="page"><caption> ’کراچی میں اسلحے سے بھرے 19 ہزار کنٹینرز کی آمد‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/08/130830_sc_karachi_situation_hearing_rk.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ’مہاجر رپبلکن آرمی کی موجودگی کا دعویٰ‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/08/130829_sc_karachi_situation_rwa.shtml" platform="highweb"/></link>

وفاقی وزیر نے کہا کہ کراچی میں اپریشن کی نگرانی صوبے کی وزیرِ اعلیٰ کریں گے جبکہ وفاقی سکیورٹی ادارے اس بارے ان سے بھر پور تعاون کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ شر پسندوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہو گی۔

پرویز رشید نے کہا کہ کراچی میں منگل کو ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں صوبہ سندھ کے گورنر اور وزیرِعلیٰ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندے بھی اس اجلاس میں شرکت کریں گے۔

کراچی کی صورتِ حال کے حوالے سے سپریم کورٹ میں از خود نوٹس کیس بھی چل رہا ہے۔

پاکستان رینجرز کے ڈائریکٹر جنرل نے جمعے کو سپریم کورٹ میں ایک بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ سابقہ دورِ حکومت میں اسلحے سے بھرے 19 ہزار کنٹینرز کراچی آئے جس کے استعمال سے کراچی جل رہا ہے۔

سپریم کورٹ میں کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوران ڈائریکٹر جنرل رینجرز میجر جنرل رضوان اختر نے کہا تھا کہ اسلحے سے بھرے یہ کنٹینرز سابقہ دورِ حکومت میں وفاقی وزیرِ برائے پورٹس اینڈ شیپنگ کی زیرِ نگرانی کراچی آئے۔

سپریم کورٹ نے اسلحے سے بھرے 19 ہزار کنٹینرز کی کراچی آمد کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی بنانے کا حکم بھی دیا تھا جس کے سربراہ سابق کسٹم کلکٹر رمضان بھٹی ہوں گے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے سندھ کے چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کی طرف سے کراچی کی صورتِ حال کے بارے میں پیش کردہ رپورٹ پر بھی عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے دوبارہ رپورٹ جمع کروانے کا کہا تھا۔

پاکستان کے اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے مقدمے کے سماعت کے دوران وفاق کی طرف سے جواب دینے کے لیے وقت مانگتے ہوئے کہا تھا کہ منگل کو وفاقی کابینہ کا اجلاس ہو رہا ہے جس کے بعد وہ عدالت میں حکومت کی طرف سے پالیسی بیان دے سکیں گے۔

یاد رہے کہ جمعرات کو وفاقی حکومت نے کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں ایک خفیہ رپورٹ پیش کی تھی جس میں ایک غیر معروف عسکری گروہ مہاجر ریپبلکن آرمی کی موجودگی کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

لیکن مقامی ذرائعِ ابلاغ کے مطابق ملک کے وفاقی وزیرِداخلہ چوہدری نثار علی خان نے بعد میں کہا تھا کہ یہ ایک ابتدائی رپورٹ تھی جسے ان کی منظوری کے بغیر عدالت میں پیش کر دیا گیا تھی۔

بی بی سی کے پاس موجود اس رپورٹ کی کاپی میں کہا گیا ہے کہ مہاجر رپبلکن آرمی کے ارکان کی نشاندہی اور ان کے خلاف کارروائی کی ضرورت ہے۔