کابینہ کی کمیٹی برائے قومی سلامتی

وزیر اعظم نے جمعرات کو کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے اجلاس کی صدرات کی جو کہ موجودہ حکومت کے دور میں اس کمیٹی کا پہلا اجلاس ہے۔
اس کمیٹی کے ایجنڈہ پر مختلف قومی سلامتی کے معاملات پر غور کرنا اور اس کے بارے میں حکمت عملی وضع کرنا ہے۔
<link type="page"><caption> سویلین اور عسکری قیادت میں روابط نہ ہونے سے اہم امور تاخیر کا شکار</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/08/130808_civilian_military_disconnect_sa.shtml" platform="highweb"/></link>
وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کمیٹی کے اجلاس کے آغاز میں ابتدائی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اندرونی اور بیرونی طور پر بہت بڑے چیلنجز کا شکار ہے اور خطے میں بھی دور رس نتائج رکھنے والی تبدیلیاں وقوع پذیر ہو رہی ہیں۔
اس کمیٹی کے اجلاس میں وزیر اعظم کے قومی سلامتی اور امور خارجہ پر مشیر، خارجہ سیکرٹری اور ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نے وزیر اعظم کو بریفنگ دی۔
اجلاس کے دوران کابینہ کی دفاعی کمیٹی کو کابینہ کی کمیٹی برائے قومی سلامتی بنانے کے فیصلے کی منظور دی گئی۔
کابینہ کی کمیٹی برائے قومی سلامتی کی سربراہی وزیراعظم کریں گے اور اس کے اراکین میں وزیر خارجہ، وزیر دفاع، وزیر خزانہ، وزیر داخلہ، چیئرمین جائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی، پاکستان کی بری، بحری اور فضائی افواج کے سربراہان شامل ہوں گے۔
یہ کمیٹی قومی سلامتی کے معاملات پر غور کرے گی اور ایک قومی سلامتی کی پالیسی وضع کرنے پر کام کرے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے علاوہ یہ کمیٹی قومی سلامتی کی پالیسی کے زیریں معاملات کی پالیسیاں بھی بنائے گی جس میں دفاعی پالیسی خارجہ پالیسی، داخلی سلامتی اور دوسرے معاملات ہوں گے جو قومی سلامتی سے متعلق ہوں گے۔
اسی طرح کمیٹی نے افغانستان میں بدلتی ہوئی صورتحال پر بھی غور کیا اور افغانستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو بہتر بنانے پر غور بھی کیا۔
اس کے علاوہ کمیٹی کو لائن آف کنٹرول پر جاری کشیدگی کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا جس پر کمیٹی نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی۔
کمیٹی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان جنگ بندی کی پوری طرح پابندی کرے گا اور کہا کہ تمام فوجی اور سفارتی راستے استعمال کیے جائیں گے اور یہ کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تمام معاملات کو بات چیت کے زریعے حل کرنے کی کوششیں جاری رکھے گا۔
اس اجلاس میں وزیر خزانہ، وزیر اطلاعات، وزیر داخلہ، وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی اور خارجہ امور، وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے امورِ خارجہ، بری، بحری اور فضائی افواج کے سربراہان اور چیئرمین جائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی نے شرکت کی۔







