نواز دور میں دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس طلب

وزیراعظم میاں نواز شریف نے بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی اور افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے بعد کی صورتحال پر مشاورت کے لیے کابینہ کی دفاعی کمیٹی کا اجلاس جمعرات کے روز طلب کر لیا ہے۔
گیارہ مئی کے انتخابات کے بعد پاکستان کی سول اور فوجی قیادت کے درمیان رابطے کے اس باضابطہ فورم کا یہ پہلا اجلاس ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار آصف فاروقی کے مطابق وزیراعظم کے دفتر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اجلاس میں کابینہ کی اس کمیٹی کی تشکیل نو کے لیے بھی بعض اقدامات کیے جائیں گے۔
روایتی طور پر دفاعی امور پر اس اعلیٰ ترین پالیسی ساز ادارے میں وفاقی حکومت کی جانب سے وزرائے خارجہ، خزانہ، دفاع اور داخلہ شامل ہوتے ہیں جبکہ تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی بھی اس کمیٹی کے ارکان ہوتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بائیس اگست کو ہونے والے کمیٹی اجلاس کے لیے وزیراعظم نے بری فوج کے آپریشنل کمانڈر سے چھ اگست کے روز لائن آف کنٹرول پر پیش آنے والے واقعہ کی تفصیلی بریفنگ طلب کی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی خصوصی دلچسپی ان واقعات کے بارے میں درست حقائق جاننے میں ہے جس کے بعد وہ لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کم کرنے کی خاطر بعض اقدامات کی بھی منظوری دیں گے۔
کابینہ کمیٹی برائے دفاع میں افغانستان کی صورتحال پر بھی تفیصلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اجلاس کے ایجنڈے کے مطابق، خاص طور پر افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد وہاں کی صورتحال اور پاکستان کے لیے مواقع اور مشکلات پر تفیصلی تبادلہ خیال ہو گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اجلاس میں یہ بھی طے کیا جائے گا کہ آئندہ ہفتے پاکستان کا دورہ کرنے والے افغانستان کے صدر حامد کرزئی کے ساتھ کن امور پر نئے معاہدے کیے جا سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ویسے تو ملکی اعلیٰ سول اور فوجی قیادت اس فورم پر کسی بھی موضوع پر کسی بھی وقت گفتگو کر سکتی ہے لیکن ایجنڈے میں قومی سلامتی پالیسی کی تیاری کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ حکومت آج کل ملک میں قومی سلامتی سے متعلق پالیسی کی تیاری پر تیزی سے کام کر رہی ہے۔







