پاکستان میں اغوا ایک پھلتی پھولتی’صنعت‘
- مصنف, محمود جان بابر، شمائلہ جعفری
- عہدہ, بی بی سی اردو سروس
پاکستان کے عوام جہاں ایک عرصے سے دہشتگردی کا شکار ہیں وہیں ملک میں اغوا جیسے جرائم کی شرح میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
ملک میں گذشتہ چند برسوں سے اغوا کی وارداتوں نے ایک ’صنعت‘ کی شکل اختیار کرلی ہے اور یہ ایک ایسا منافع بخش ’کاروبار‘ بن گیا ہے جو کسی کے لیے راتوں رات امیر بننے تو کسی کے لیے بہت سے دوسرے غیرقانونی دھندوں کے لیے سرمایہ فراہم کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔
پاکستان میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے پہلے نصف میں ملک بھر میں نو ہزار سے زیادہ افراد اغوا کیے گئے ہیں اور ماہرین کے مطابق یہ تعداد ان اعداد و شمار سے خاصی زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ کئی افراد اس معاملے کو پولیس تک لے جانے کی بجائے بات چیت کے ذریعے حل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
<link type="page"><caption> 2011 میں اغوا کی اہم وارداتیں</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/08/110826_timeline_kidnapping_ar.shtml" platform="highweb"/></link>
ملک کے چاروں صوبوں کی پولیس بھی اس ضمن میں مختلف حیلوں بہانوں سے مسئلے کی شدت کو کم ظاہر کرنے کی کوشش کرتی ہے اور سرکاری ویب سائٹوں پر اس جرم سے متعلق اعداد و شمار کو مختلف نوعیتوں میں تقسیم کر کے کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
پنجاب

پاکستان میں آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں اغوا کی وارداتوں کی تعداد بھی سب سے زیادہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پنجاب پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جنوری سے جون کے اواخر تک مختلف نوعیت کے اغوا کی 7139 وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔
پنجاب میں گزشتہ کچھ عرصے کے دوران کئی اہم شخصیات کو بھی اغوا کیا گیا ہے جن میں حکام کے مطابق اغوا کاروں کے بڑے گروہ ملوث ہیں۔
اس معاملے کی تازہ ترین مثال سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدر گیلانی کا مئی 2013 میں ملتان سے انتخابی مہم کے دوران اغوا ہے جنہیں واقعے کے تین ماہ بعد تک بھی بازیاب نہیں کروایا جا سکا ہے۔
ملتان کے سٹی پولیس آفیسر غلام محمود ڈوگر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس اغوا کی تحقیقات میں پیشرفت ہوئی ہے لیکن اسی قسم کے دعوے پولیس حکام کی جانب سے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیر کے لاہور سے اغوا کے بعد بھی سامنے آئے تھے جن کے اغوا کا معمہ دو برس گزر جانے کے باوجود ابھی تک حل نہیں ہو سکا۔
ایسی ہی صورتحال امریکی امدادی کارکن ڈاکٹر وارن وائنسٹائن کے کیس کی ہے جنہیں لاہور ہی سے اغوا کیا گیا تھا۔ اغواکار ان کی ویڈیوز بھی جاری کرچکے ہیں لیکن ڈاکٹر وارن کو اب تک رہا نہیں کروایا جا سکا۔
ان بڑی وارداتوں کے علاوہ صوبے میں چھوٹے پیمانے پر اغوا کی واردتیں بھی عام ہیں جہاں تاوان کے لیے کیے گئے اغوا میں پیسے کا حصول ہی بنیادی ہدف ہوتا ہے
لاہور میں پولیس کی جانب سے آپریشن کے بعد گرفتار کیے جانے والے ایک مبینہ اغوا کار کا کہنا ہے کہ ’ہم نے یہ سب کچھ پیسے کے لالچ میں کیا۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ اتنا سنگین جرم ہے۔ ہماری عقل پر پردہ پڑ گیا تھا یہ پہلا اور آخری جرم ہے جو مجھ سے ہوا۔ میرے پانچ بچے ہیں جن کی عمریں دس سال سے بھی کم ہیں۔ بس ایک غلطی سے سب کچھ برباد ہوگیا‘۔
یہ تاثرات تو اس اغواکار کے ہیں جو پولیس کی حراست میں ہے جبکہ اغواکاروں کے بہت سے گروہ ایسے ہیں جو قانون نافذ کرنے والوں کی پہنچ سے دور ہیں۔ ان گروہوں کے خلاف کارروائی اور ان کے قبضے سے مغویوں کو بازیاب کروانا بڑا چیلنج ہے۔
لاہور کے ڈی آئی جی انوسٹیگیشن ذوالفقار حمید کہتے ہیں: ’کبھی کبھی اغواکار مغویوں کو ایسے علاقوں میں لے جاتے ہیں جہاں حکومتی رٹ پوری طرح قائم نہیں جیسے قبائلی علاقے یا پھر کچھ کیسز میں اغوا کرنے والے دوسرے صوبوں میں چلے جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں ان کو بازیاب کرانا نسبتاً مشکل ہوتا ہے اور ایسے مقدمات کو حل کرنے میں وقت بھی زیادہ لگتا ہے‘۔
سندھ

اغوا کی وارداتوں میں صوبہ سندھ دوسرے نمبر پر ہے جہاں اس جرم کی 1711 وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔
گذشتہ برس اس صوبے میں پورے سال میں 1661 افراد اغوا ہوئے۔ اس سال صرف چھ ماہ میں یہ تعداد عبور کر لی گئی ہے۔
کراچی میں متحرک گروہ تو اب اغوا کی واردتوں کے لیے روایتی طریقوں کے ساتھ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے بھی دکھائی دے رہے ہیں۔
سیٹزن پولیس لائزن کمیٹی کے سربراہ احمد چنائے کے مطابق ’سوشل میڈیا کا ایک سیلاب امڈ آیا ہے اور سوشل میڈیا پر ایسے مواد کی بھرمار ہے جو کئی لوگوں کے لیے اغوا کی وارداتوں کی تربیت کا ذریعہ ہے۔ اس سے نفسیاتی طور پر ہمارے لوگوں میں تشدد کا عنصر بھی بڑھ رہا ہے‘۔
خیبر پختونخوا

شدت پسندی سے متاثرہ خیبر پختونخوا میں رواں سال 15 جولائی تک کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اب تک مجموعی طور پر 524 لوگ اغوا ہوئے ہیں۔
ملک میں ہونے والی اغوا کی بہت سی وارداتوں کے تانے بانے خیبرپختونخوا اور خاص طور پر قبائلی علاقوں کے مسلح گروہوں سے جڑے ہیں۔
دہشت گرد تنظیمیں کچھ افراد کا اغوا نظریاتی اختلافات کے باعث جائز سمجھتی ہیں لیکن اغوا کی ان وارداتوں کے پیچھے اور بھی کئی محرکات کارفرما ہوتے ہیں۔
پشاور سے وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی ڈاکٹر اجمل خان بھی دو سال سے زائد عرصے سے طالبان کے قبضے میں ہیں۔
بلوچستان

اسی طرح بلوچستان میں رواں سال کے پہلے دو ماہ کے دوران کل 57 لوگ اغوا ہوئے ہیں۔
اس کے علاوہ صوبائی پولیس کے مطابق لاپتہ افراد کی تعداد 75 ہے۔ پچھلے سال اس صوبے میں مجموعی طور پر چار سو افراد اغوا ہوئے۔ خدشہ ہے کہ شورش سے متاثرہ اس صوبے میں اکثر لاپتہ افراد بھی اسی جرم کے زمرے میں آتے ہیں لیکن ان کے اغوا کی وارداتیں پولیس ریکارڈ میں شامل نہیں کی جاتیں۔
یہاں اغوا کی وارداتوں کا تعلق امن و امان کی نسبت صوبے کے سیاسی حالات سےزیادہ ہے۔
بلوچستان میں لاپتہ افراد کی تنظیم وائس فار مِسنگ بلوچ پرسنز کے رہنما عبدالقدیر بلوچ یہاں جبری گمشدگیوں کا مورد الزام ریاستی اداروں کو ٹھہراتے ہیں: ’سپریم کورٹ میں جب ہمارے مقدمے کی سماعت ہو رہی تھی تو چیف جسٹس نے علیٰ اعلان یہ کہا کہ ان (بلوچوں) کو اٹھانے والے ان کو غائب کرنے والے اغوا کرنے والے خفیہ ادارے اور ایف سی ہے۔‘
دہشت گرد تنظیمیں

دہشت گرد تنظیمیں کچھ افراد کا اغوا نظریاتی اختلافات کے باعث جائز سمجھتی ہیں لیکن اغوا کی ان وارداتوں کے پیچھے اور بھی کئی محرکات کارفرما ہوتے ہیں۔
اغوا کے بہت سے کیس حل کرنے والے لاہور کے ڈی آئی جی انوسٹیگیشن ذوالفقار حمید کہتے ہیں: ’پولیس اور معاشرے کے لیے اغوا کی سب سے زیادہ سنسنی خیز اور پریشان کن وارداتیں وہ ہیں جن کےذریعے دہشت گردی کے لیے مالی وسائل اکٹھے کیے جاتے ہیں۔ اغوا کے ایسے واقعات میں عموماً کوئی دہشت گرد یا کالعدم تنظیم ملوث ہوتی ہے۔ اغوا کے لیے ان کے ہدف کا انتخاب ان کا طریقۂ کار اور تاوان کے لیے مانگی گئی رقم عام اغوا کی وارداتوں سے مختلف ہوتی ہیں‘۔
اغوا کے کاروبارکی یہ صنعت کتنی بڑی ہے اوراس میں کتنے پیسے مانگے جاسکتے ہیں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ذوالفقارحمید کا کہناتھا کہ بعض اوقات ایک مغوی کے بدلے لاکھوں روپے اوربعض کیسز میں توکروڑوں روپے تاوان بھی مانگا جاتا ہے۔
اغوا کے خودساختہ مقدمات
لیکن اغوا کی ساری وارداتیں ایک جیسی اورخطرناک نوعیت کی بھی نہیں ہوتیں بلکہ ان اعدادشمار میں جہاں تاوان کی غرض سے اغوا شامل ہیں وہیں ان میں ایسے خودساختہ مقدمات کی بھی کمی نہیں جو لوگوں کی جانب سے اپنے مخالفین کو پھانسنے کے لیے درج کروائے جاتے ہیں۔
ملک میں انتخابات کے علاوہ دیگر شہری معاملات کی نگرانی کرنے والی تنظیم فافن کے پروگرام ڈائریکٹر رشید چودھری کے مطابق پاکستان میں اغوا اور دیگرایسے جرائم کے مواد کے لیے آپ کو صرف پولیس پر ہی انحصار کرنا ہوتا ہے کیونکہ ان کے علاوہ پاکستان میں ایسا کوئی ادارہ نہیں جو یہ ریکارڈ مرتب کرتا ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ اغوا کی بہت کم وارداتیں پولیس کے پاس رپورٹ ہوتی ہیں کیونکہ لوگ مغوی کے جان جانے کے ڈرسے پولیس کو کچھ نہیں بتاتے۔ ان کا کہناتھا کہ پنجاب میں تو پھر بھی پولیس کی رٹ دیکھنے کو ملتی ہے لیکن سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں تو اس رٹ کی شکل کوئی اتنی قابل رشک نہیں یہاں تک کہ لوگ پولیس کے پاس اس جرم کا مقدمہ ہی درج نہیں کرتے جس کی وجہ سے ابھی تک اس قبیح جرم کی اصل شکل معاشرے کے سامنے نہیں آ سکی۔







