مغویوں کا ’چُپ کا روزہ‘

- مصنف, محمود جان بابر، شمائلہ جعفری
- عہدہ, بی بی سی اردو سروس
پاکستان میں اغوا برائے تاوان کا جرم ایک باقاعدہ ’کاروبار‘ کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے اور تاوان کی ادائیگی کے نتیجے میں اغواکاروں کے چنگل سے نکل کر آنے والے افراد میں سے زیادہ تر زبان بندی کا ایسا وعدہ کر کے آتے ہیں کہ اپنے اہلخانہ سے بھی خود پر بیتنے والے حالات پر بات کرنے سے ڈرتے ہیں۔
مغویوں کی اس ’چپ‘ کی وجہ جہاں رہائی کے باوجود ان کی جان کو لاحق خطرات اور اغواکاروں کی جانب سے زبان کھولنے کی صورت میں دوبارہ اغوا کی دھمکیوں کو قرار دیا جاتا ہے وہیں دوران اغوا انہیں پہنچنے والی ذہنی اذیت بھی اس خاموشی کی ایک اہم وجہ قرار دی جاتی ہے۔
لیکن اغوا کے تمام معاملات میں ایسا نہیں ہوتا اور ایسے ہی ایک بازیاب ہونے والے شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی اردو کو بتایا کہ انہیں پشاور سے اغوا کیا گیا تھا اور اغوا کے بعد انہیں قریبی قبائلی علاقے یعنی خیبر ایجنسی میں رکھا گیا تھا۔
ان کے مطابق اغوا کار انہیں اوران سے پہلے اغوا ہونے والوں کو غیر انسانی حالت میں مکانات کی بجائے خفیہ تاریک غاروں یا پھر کبھی 30 سے 40 فٹ گہرائی والے کنوؤں میں رکھتے تھے اور اندھیرے غاروں اور کنوؤں میں مسلسل قید رہنے سے ان کے ذہن سے دن اور رات کا فرق مٹ سا گیا تھا۔
اس سابقہ مغوی کا کہنا تھا کہ اغوا کاروں کے گروہ آپس میں مغویوں کی خریدوفروخت بھی کرتے ہیں اور رہائی سے پہلے مغویوں سے زبان بندی کا حلف بھی لیا جاتا ہے۔
ان کے مطابق ’ہمیں ایک گروہ نے پشاور میں حیات آباد سے اغوا کیا اور آخری وقت تک ہم قریبا 9 گروپوں کے ہاتھوں فروخت ہوتے رہے اور جب ہمیں چھوڑا گیا تو ہم سے وعدہ لیا گیا تھا کہ زبان نہیں کھولنی ورنہ اب خاندان کا کوئی اور فرد یہاں لایا جائے گا۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان غاروں اور کنوؤں میں کھانے پینے کے لیے انہیں برائے نام خوراک ملتی تھی جبکہ رفع حاجت کے لیے مٹی کا برتن دیا جاتا تھا۔
پشاور کے اس مغوی کے برعکس لاہور سے تعلق رکھنے والے شاہد زمان اغوا کے چند دن بعد ایک پولیس آپریشن کے نتیجے میں بازیاب ہوئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شاہد خلیجی ریاست عمان کے دارالحکومت مسقط میں سونے کے زیورات کا کام کرتے ہیں اور ان کی بازیابی کے بعد معلوم یہ ہوا کہ انھیں تاوان کے لیے اغوا کرنے والے گروہ کی سرغنہ ایک خاتون تھی۔
شاہد زمان بازیاب ہونے کے بعد بھی اغوا کے خوف اور صدمے سے باہر نہیں آسکے۔ شاہد کہتے ہیں ’اتنے ہنٹر مارے، اتنا ظلم اور تشدد کیا اس لڑکی نے مجھ پر میں سوچ بھی نہیں سکتا کہ کوئی انسان کسی انسان کے ساتھ تو کیا کسی جانور کے ساتھ بھی ایسا نہیں کر سکتا‘۔







