’شیڈول میں تبدیلی عدالت کا یکطرفہ اقدام‘

پاکستان پیپلز پارٹی کے صدارتی امیدوار رضا ربانی نے بدھ کو کاغذات نامزدگی جمع کروا دیے ہیں
،تصویر کا کیپشنپاکستان پیپلز پارٹی کے صدارتی امیدوار رضا ربانی نے بدھ کو کاغذات نامزدگی جمع کروا دیے ہیں

پاکستان پیپلزپارٹی کے صدارتی امیدوار سینیٹر رضا ربانی نے سپریم کورٹ کی جانب سے صدارتی انتخاب کے شیڈول میں تبدیلی کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے اسے یکطرفہ اقدام قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے نہ صرف ان کا جمہوری اور سیاسی حق متاثر ہوا ہے بلکہ وہ بہتر انداز میں اپنی انتخابی مہم بھی نہیں چلا سکیں گے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اب ملک میں صدارتی انتخاب چھ اگست کی بجائے تیس جولائی کو ہوگا۔

بدھ کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رضا ربانی کا کہنا تھا کہ عدالتِ عظمیٰ نے فیصلے سے قبل فریقین کو موقف پیش کرنے کا موقع نہیں دیا۔

صدارتی امیدوار کا کہنا تھا کہ ان کا تعلق مڈل کلاس سے ہے اور موجودہ فیصلے سے ان کی انتخابی مہم کو بھی نقصان پہنچے گا۔

انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف کے امیدوار ہونے کے ناطے اور وسائل کی کمی کے باعث دو دنوں میں ووٹروں سے ملنے کے لیے چاروں صوبوں کا دورہ کرنا ان کے لیے ممکن نہیں ہے۔

اس موقع پر ممتاز قانون دان سینیٹر اعتزاز حسن کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ نواز نے صدارتی انتخاب میں شکست سے خوفزدہ ہو کر سپریم کورٹ کے ذریعے شیڈول میں تبدیلی کروائی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے صدارتی انتخابات میں حزب اختلاف کی دیگر جماعتوں سے رابطے شروع کیے ہیں اور سینیٹر رضا ربانی پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے متفقہ اُمیداور ہیں جبکہ پاکستان مسلم لیگ قاف نے بھی صدارتی انتخاب میں اُمیدوار کھڑا نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے اعلان کے مطابق ملک کے آئندہ صدر کے لیے انتخاب اگلے ماہ کی چھ تاریخ کو ہونا تھا تاہم مسلم لیگ (ن) نے انتخابی شیڈول میں تبدیلی اور جولائی کے آخری ہفتے میں صدارتی انتخاب کرانے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دی تھی جس پر بدھ کو سماعت کے بعد فیصلہ دیا گیا۔

پاکستان کی وزارتِ قانون نے بھی چند دن قبل الیکشن کمیشن کو اس بارے میں درخواست دی تھی جسے کمیشن نے مسترد کر دیا تھا تاہم اب اس نے عدالتی فیصلے پر عمل کرتے ہوئے تیس جولائی کے لیے انتخابی شیڈول جاری کر دیا ہے۔