’صدارتی انتخاب کے شیڈول میں رد و بدل کریں‘

پاکستان کے الیکشن کمیشن کے مطابق وزارتِ قانون اور انصاف نے صدارتی انتخابات کے شیڈول میں رد و بدل کی درخواست کی ہے۔
الیکشن کمیشن کے ترجمان خورشید عالم نے بی بی سی کو بتایا کہ قانون اور انصاف کی وزارت نے کمیشن کو لکھے گئے ایک خط میں موقف اختیار کیا ہے کہ پارلیمان کے ارکان کی ایک بڑی تعداد نے ماہ رمضان کے آخری عشرے میں عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب روانہ ہونا ہے۔
اس خط کے مطابق ان اراکین کی واپسی عیدالفطر کے بعد ہوگی۔
وزارتِ قانون اور انصاف نے کہا ہے کہ صدارتی انتخاب میں ارکان پارلیمان کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنانے کے لیے الیکشن کمیشن انتخاب کا شیڈول تبدیل کرے۔
خورشید عالم نے بتایا کہ یہ خط الیکشن کمیشن کے ممبران کو بھجوا دیا گیا ہے اور ان کے اکثریتی فیصلے کے مطابق صدارتی انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ آئینی تقاضا یہ ہے کہ صدارتی انتخابات آٹھ اگست سے قبل ہو جانے چاہیے۔
الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق صدارتی انتخابات چھ اگست کو ہوں گے جبکہ نتائج کا اعلان سات اگست کو کیا جائے گا۔
الیکشن کمیشن کے مطابق کاغذات نامزدگی 24 جولائی کو جمع کرائے جائیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 26 جولائی کو کی جائے گی جبکہ کاغذات واپس لینے کی آخری تاریخ 29 جولائی ہو گی۔
واضح رہے کہ صدر مملکت آصف علی زرداری کے عہدۂ صدارت کی مدت اس سال آٹھ ستمبر کو مکمل ہو رہی ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ رواں سال کے آخر سے وہ ایک بار پھر سیاست میں آئیں گے اور اس مرتبہ ان کے تینوں بچے بھی سیاست میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ صدر اپنی آئینی مدت پوری کریں گے اور ایک صدر کے ہوتے ہوئے دوسرے صدر کا انتخاب کیا جائے گا۔
دوسری جانب وزیرِ اطلاعات پرویز رشید نے کہا کہ حکومت نے صدارتی انتخاب کے شیڈول میں ردوبدل کے لیے نہیں کہا بلکہ وہ صرف صدارتی انتخاب کی تاریخ میں تبدیلی چاہتی ہے۔
پرویز رشید نے ریڈیو پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق صدارتی انتخابات چھ اگست کو ہوں گے تاہم اس دن لیلۃ القدر کی رات ہو سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لیلۃ القدر کی وجہ سے متعدد ارکانِ پارلیمان عبادت یا اعتکاف میں مصروف ہوں گے یا پھر عمرے کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب میں موجود ہوں گے۔
پرویز رشید کے مطابق حکومت نے الیکشن کمیشن سے درخواست کی ہے کہ وہ صدارتی انتخاب کا انعقاد چھ اگست سے پہلے منعقد کروائے تاکہ پارلیمان کا کوئی بھی رکن اپنا ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم نہ ہو۔
ایک سوال کے جواب میں وزیرِ اطلاعات کا کہنا تھا کہ ملک میں ضمنی انتخابات سے پہلے صدارتی انتخاب منعقد کروانے کے بارے میں آئینی پابندی نہیں ہے۔







