پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے جنگ

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سکول جانے کے عمر کے تقریباً 54 لاکھ بچے سکول نہیں جاتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشناقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سکول جانے کے عمر کے تقریباً 54 لاکھ بچے سکول نہیں جاتے ہیں۔
    • مصنف, اورلا گیورین
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

گزشتہ برس اکتوبر میں طالبان کے حملے میں زخمی ہونے والی پاکستانی طالبہ ملالہ یوسف زئی جمعے کواقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کر رہی ہیں۔

ملالہ اپنی سولہویں سالگرہ کے موقع پر جنرل اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے خطاب کریں گی۔

توقع ہے کہ وہ اپنے خطاب میں عالمی رہنماؤں پر تعلیم کی فراہمی پر مزید اقدامات کرنے پر زور دیں گی۔

ملالہ کے آبائی ملک پاکستان دنیا کے اُن ملکوں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے جہاں بچوں کی بڑی تعداد تعلیم حاصل کرنے کے لیے سکول نہیں جا پاتی ہے۔

طالبان کے ملالہ پر حملے کی گونج پاکستان کے شمال میں واقع وادی سوات میں سنائی دی جس سے حیرت انگیز نتائج سامنے آئے۔

مقامی امدادی کارکن قراۃالعین شیخ، جو ایک سکول کے برآمدے میں بیٹھی ہیں، نے کہا ’ملالہ کے واقعے کے بعد بہت سے والدین خاص کر مائیں اپنی لڑکیوں کو سکول بھیجنے پر تیار نہیں تھیں۔ وہ بہت خوف زدہ تھیں۔'

اس واقعے کے بعد تقریبا ایک ماہ تک سوات میں لڑکیوں کے سکول خالی تھے۔

لیکن امدادی کارکنوں اور اساتذہ نے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے والدین کو راضی کیا اور پھر خوف زدہ والدین اپنی لڑکیوں کو سکول بھیجنے لگے۔

قراۃالعین شیخ کہتی ہیں ’ یہ خاص کر ماؤں میں مثبت تبدیلی ہے۔ وہ اپنی بیٹیوں کو ملالہ کی طرح سکول بھیجنے اور کام کرنے کی اجازت دے رہی ہیں۔ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا رہی ہیں۔‘

جس کے بعد سکول میں لڑکیوں کی تعداد بڑھ کر تین سو تک ہو گئی ہے۔

سکول کے برآمدے میں اسمبلی ہوئی جس میں طالبات قطاروں میں کھڑے ہو کر قومی ترانہ پڑھ رہی ہیں۔ اس کے بعد طالبات کلاس روم میں چلی گئیں۔

دس سالہ بچی تسلیم نے سکول میں ابھی داخلہ لیا ہے وہ کہتی ہے کہ وہ بڑی ہو کر پولیس میں جانا چاہتی ہے لیکن تسلیم کہتی ہیں کہ اُن کی والدہ ملالہ پر ہونے والے حملے پر کافی غصے میں تھیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’ملالہ پر حملے سے پہلے ہم نے سکول جانے کا نہیں سوچا تھا۔ جو کچھ ہوا وہ میری ماں نے ٹی وی پر دیکھا اُسی کے بعد انھوں نے مجھے سکول بھیجنے کا فیصلہ کیا۔‘

تسلیم نے کہا ’ اُس (ملالہ) پر بے دردی سے حملہ کیا گیا۔ اُس نے کچھ غلط نہیں کیا تھا۔ اُسے گولی مارنے والوں کو شائد یہ پسند نہیں تھا کہ وہ لڑکیوں کی تعلیم حاصل کرنے میں مدد کرے۔‘

تسلیم کے ساتھ بیٹھی ایک اور طالبہ نیبلہ ڈاکٹر بننا چاہتی ہیں۔ وہ بھی تسلیم کی طرح اپنے خاندان کی پہلی لڑکی ہیں جو سکول میں داخل ہوئی ہیں۔

ملالہ یوسف زئي علاج کے لیے لندن گئی تھیں اور وہیں زير تعلیم ہیں
،تصویر کا کیپشنملالہ یوسف زئي علاج کے لیے لندن گئی تھیں اور وہیں زير تعلیم ہیں

نیبلہ نے کہا ’میں اپنے والد سے کہتی تھی مجھے سکول جانا ہے لیکن وہ ہمیشہ انکار کرتے تھے لیکن جب میرے والدین کو ملالہ کے واقع کا پتہ چلا تو انھوں نے کہا کہ مجھے سکول جانا چاہیے۔ جب میں سکول آئی تو مجھے کچھ بھی معلوم نہیں تھا۔ میرے اساتذہ نے مجھے سب کچھ سکھایا ہے۔‘

ملالہ یوسف زئی نے پہاڑوں کے دامن میں واقع اس وادی میں لڑکیوں کی زندگی تو تبدیل کر دی ہے لیکن پاکستان میں ابھی بہت سے بچے ایسے ہیں جو کبھی سکول نہیں گئی۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں سکول جانے کے عمر کے تقریباً 54 لاکھ بچے سکول نہیں جاتے ہیں۔

پاکستان میں پرائمری تعلیم پر خرچ ہونے والے رقم دفاعی اخراجات کے مقابلے میں سات گنا کم ہے اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم سپارک کے مطابق ملک میں ایک کروڑ بیس لاکھ بچے ایسے ہیں جو غربت میں آنکھ کھولتے ہیں اور کم عمری میں محنت مزدوری کرتے ہیں۔

پاکستان میں صوبے سندھ کے شہر حیدر آباد میں دس سالہ جینی اینٹوں کی بھٹی میں اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ کام کرتی ہے۔

جینی کا تعلق پاکستان میں رہنے والے ہندو اقلیت سے ہے۔ اُس کا خاندان دن بھر کام کرنے کے بعد تین سو روپے کماتا ہے جو دن بھر کی خوراک کے لیے ناکافی ہے۔

جینی نے روتے ہوئے کہا ’ ہم کماتے ہیں تو کھاتے ہیں۔ میرا بھائی زخمی ہو گیا ہے وہ میرے والد کی مدد نہیں کر سکتا اس لیے اب ہم ہیں جو کام کر رہے ہیں۔'

جینی کا باپ گینو جانتا ہے کہ اُس کے بچوں کا مستقبل نہیں ہے لیکن وہ غربت کے سبب اسے روک نہیں سکتا ہے۔

جینی کے باپ نے کہا ’میں تعلیم کی اہمیت سے واقف ہوں۔ اگر میں مر گیا تو ان کا کیا ہو گا۔ یہ ناخواندہ ہیں کوئی بھی انھیں بے وقوف بنا سکتا ہے لیکن میں انھیں سکول نہیں بھیج سکتا۔‘

جینی ایک دن سکول گئی تھی لیکن سکول بہت دور تھا۔ شائد اسی لیے اُس کے خواب ان اینٹوں میں دفن ہو گئے ہیں۔