آئی ایم ملالہ: ’میری نہیں چھ کروڑ بچوں کی کہانی ہو گی‘

ملالہ کی کتاب اس سال کے آخر تک بازار میں دستیاب ہو گی
،تصویر کا کیپشنملالہ کی کتاب اس سال کے آخر تک بازار میں دستیاب ہو گی

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں طالبان کے حملے میں زخمی ہونے والی ملالہ یوسفزئی نے برطانیہ میں آپ بیتی لکھنے کا معاہدہ کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ملالہ کو کتاب لکھنے کا 30 لاکھ امریکی ڈالر معاوضہ دیا جائے گا۔

توقع ہے کہ ان کی آپ بیتی اس سال کے اواخر تک شائع ہو جائے گی، اور اس کا نام ’میں ملالہ ہوں‘ ہو گا۔ اس کتاب میں گذشتہ اکتوبر کو ملالہ پر سکول جاتے ہوئے ہونے والے حملے کی تفصیلات بیان کی جائیں گی۔

ملالہ نے بدھ کے دن ایک بیان میں کہا کہ انھیں امید ہے ان کی کہانی ’ہر لڑکے اور لڑکی کے سکول جانے کے حق کے لیے چلائی جانے والی مہم کا حصہ ہو گی۔‘

انھوں نے کہا، ’مجھے امید ہے کہ یہ کتاب دنیا بھر کے لوگوں تک پہنچے گی، تاکہ انھیں احساس ہو کہ بعض بچوں کے لیے تعلیم حاصل کرنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ میں اپنی کہانی سنانا چاہتی ہوں لیکن یہ ان چھ کروڑ بچوں کی کہانی بھی ہو گی جو تعلیم حاصل نہیں کر سکتے۔‘

خبررساں ادارے اے پی کے مطابق کتاب کے ناشر وائیڈن فیلڈ اور نکولسن نے کہا ہے کہ وہ اس سال خزاں میں اس کتاب کو برطانیہ اور دولتِ مشترکہ میں فروخت کے لیے پیش کریں گے۔

پندرہ سالہ ملالہ کی آپ بیتی کو امریکہ اور بقیہ دنیا میں تقسیم کرنے کے حقوق لٹل براؤن اینڈ کو کے پاس ہیں۔

لٹل براؤن کے پبلشر مائیکل پائٹش نے اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا ’ملالہ دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کے لیے تحریک کا باعث ہیں۔ ان کی ہمت اور بقا کی کہانی سے دماغ کھلیں گے، دل بڑے ہوں گے اور آخرِ کار اس سے زیادہ لڑکیوں اور لڑکوں کو تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔‘

ملالہ کو سوات میں سکول جاتے ہوئِے نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس حملے میں زخمی ہونے کے بعد ان کا علاج پاکستان میں کیا گیا اور بعد میں برطانیہ منتقل کردیا گیا۔

برطانیہ میں حال ہی میں ملالہ نے سکول جانا شروع کیا ہے۔