تشدد ترک کرنے والوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں: وزیرِ داخلہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں سنیچر کے روز دو دھماکوں اور بولان میڈیکل کمپلکس پر فائرنگ کے واقعے کے بعد آج صوبے میں سوگ منایا جا رہا ہے۔ ان واقعات میں ہلاکتوں کی تعداد 25 ہوگئی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے آج کوئٹہ اور زیارت کا دورہ کیا۔ اس موقعے پر کوئٹہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکومت کی ترجیحات میں امن قائم کرنا ہے اور ہم روٹھے ہوئے عناصر کو منائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ہماری حکومت مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرے گی تاہم مذاکرات صرف اُن لوگوں کے ساتھ کیے جائیں گے جو تشدد ترک کرنے پر تیار ہوں۔ انھوں نے کہا کہ ’جو لوگ دہشتگردی پر بضد رہیں گے، انھیں ویسا ہی جواب دیا جائے گا۔‘

دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان گی مون نے کوئٹہ کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران خواتین اور تعلیم دینے والوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق سیکرٹری جنرل کے ترجمان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس کا مقصد لڑکیوں کو تعلیم کے بنیادی حق سے دور رکھنا ہے۔

بیان میں پاکستان میں شدت پسندی کے جاری واقعات پر اظہار یکجہتی کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے کہا گیا ہے کہ وہ ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ہر ممکن کوشش کرے۔

بیان کے مطابق سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ یہ حملہ بزدلانہ کارروائی ہے اور آزمائش کی اس گھڑی میں اقوامِ متحدہ پاکستان کے ساتھ ہے۔

سنیچر کو کوئٹہ میں دو دھماکوں اور فائرنگ کے واقعے میں کوئٹہ کے ڈپٹی کمشنر اور 14 طالبات سمیت 25 افراد ہلاک جبکہ اسسٹنٹ کمشنر اور ایف سی کے کپتان سمیت 25 سے زیادہ لوگ زخمی ہو گئے۔

بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ بولان میڈیکل کمپلیکس میں ہونے والی تباہی اور دھماکہ خیز مواد کی موجودگی کے خدشے کے پیش نظر یہاں سے مریضوں کو کوئٹہ کے سول ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

سکیورٹی فورسز نے چار حملہ آوروں کو ہلاک اور ایک کو گرفتار کیا ہے۔ کالعدم شدت پسند تنظیم لشکرِ جھنگوی نے دھماکے اور ہسپتال پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

دہشتگردی کے ان واقعات میں ڈپٹی کمشنر کا ایک محافظ بھی مارا گیا
،تصویر کا کیپشندہشتگردی کے ان واقعات میں ڈپٹی کمشنر کا ایک محافظ بھی مارا گیا

سنیچر کو کوئٹہ میں پہلا دھماکہ سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی کی ایک بس میں ہوا اور اس دھماکے کی زخمی طالبات کو بولان میڈیکل کمپلیکس لے جایا گیا اور جب اعلیٰ حکام ہسپتال پہنچے تو شعبہ حادثات میں دوسرا دھماکہ ہوا جس کے بعد فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا جو کئی گھنٹے تک جاری رہا۔

اس آپریشن میں کوئٹہ کے ڈپٹی کمشنر اور ایف سی کے چار اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ اس سے قبل بروری روڈ پر ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہونے والی طالبات کی تعداد 14 تک پہنچ گئی ہے۔ پاکستان نرسنگ فیڈریشن کے صدر ریاض لوئیس کے مطابق فائرنگ سے چار نرسیں بھی ہلاک ہوئی ہیں۔

کالعدم شدت پسند تنظیم لشکرِ جھنگوی کے ترجمان نے بی بی سی اردو کو فون کر کے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

بلوچستان کے وزیراعلیٰ کے ترجمان جان محمد بلیدی نے بی بی سی کو بتایا کہ جب دوسرا دھماکہ ہوا تو کوئٹہ کے ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر دونوں ہسپتال میں موجود تھے اور ڈپٹی کمشنر عبدالمنصور کاکڑ ہلاک اور اسسٹنٹ کمشنر انور علی شر زخمی ہوئے۔

بلوچستان میں نئی حکومت کی تشکیل کے بعد کوئٹہ میں دہشتگردی کی یہ پہلی بڑی واردات ہے۔

وزیرِاعظم میاں محمد نواز شریف نے ویمن یونیورسٹی کی بس پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

یاد رہے کہ سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی بلوچستان میں خواتین کی واحد یونیورسٹی ہے۔ یونیورسٹی کی ویب سائٹ کے مطابق یونیورسٹی میں تقریباً تین ہزار طالبات زیرِ تعلیم ہیں۔

دریں اثنا سنیچر کی صبح ہی بلوچستان کے شہر زیارت میں واقع پاکستان کے بانی محمد علی جناح کی رہائش گاہ زیارت ریزیڈنسی کے اطراف چار زوردار دھماکے ہوئے جن سے لکڑی سے بنی اس عمارت کی دیواروں کے سِوا تمام سامان جل کر تباہ ہوگیا۔ کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔