کوئٹہ:پولیس بس پر بم حملہ، 12 اہلکار ہلاک

اس بم حملے میں پولیس کی بس کو نشانہ بنایا گیا
،تصویر کا کیپشناس بم حملے میں پولیس کی بس کو نشانہ بنایا گیا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک بم دھماکے کے نتیجے میں بارہ پولیس اہلکاروں سمیت تیرہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ دھماکہ جمعرات کی صبح مشرقی بائی پر قریب گھاس منڈی کے قریب ایک رکشے میں ہوا۔

کوئٹہ کے ڈی آئی جی فیاض سنبل نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ریموٹ کنٹرول بم کا دھماکا تھا اور اس کا نشانہ پولیس کی ایک بس بنی۔

پولیس حکام کے مطابق دھماکے میں مارے جانے والوں میں بارہ پولیس اہلکار اور بس کا ڈرائیور شامل ہیں۔

اس دھماکے میں سترہ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور زخمیوں کو سول ہسپتال اور سی ایم ایچ منتقل کر دیا گیا۔

دھماکے میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کا تعلق ریپڈ ریسپانس گروپ سے تھا اور انہیں روزانہ بس کے ذریعے سریاب کے علاقے میں واقع پولیس تربیتی مرکز سے شہر لایا جاتا تھا۔

تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی اردو کو فون کر کے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور کہا ہے کہ یہ ان کے ساتھیوں کے خلاف کارروائیوں کا بدلہ ہے۔

خیال رہے کہ کوئٹہ کافی عرصے سے بم دھماکوں اور خودکش حملوں کی زد پر ہے۔

بارہ مئی کو بھی کوئٹہ میں آئی جی پولیس کے گھر کے قریب خودکش کار بم حملے میں7 افراد ہلاک جبکہ 76 زخمی ہوئے تھے۔

کوئٹہ پولیس کے سربراہ میر زبیر محمود نے اس حملے میں چار سو سے پانچ سو کلوگرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔