کوئٹہ خودکش حملہ، ہلاکتوں میں اضافہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں آئی جی پولیس کے گھر کے قریب خودکش کار بم حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 7 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 76 افراد اس حملے میں زخمی ہوئے ہیں۔
یہ دھماکا اتوار کی شب ہوا تھا۔
کوئٹہ پولیس کے سربراہ میر زبیر محمود نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خودکش حملہ آور ایک کار میں تھا اور اس نے آئی جی پولیس مشاق سکھیرا کے گھر کے بلکل قریب دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی کو اڑا دیا۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق گاڑی میں چار سو سے پانچ سو کلوگرام دھماکہ خیز مواد موجود تھا۔
ہلاک ہونے والوں میں دو سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ زخمی ہونے والے 76 افراد میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
آئی جی پولیس کا گھر گورنر ہاؤس کے قریب ہائی سکیورٹی زون میں واقع ہے۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔
جس وقت دھماکہ ہوا اس وقت کوئٹہ پریس کلب کے باہر بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ کے کارکنوں کا احتجاجی مظاہرہ ہو رہا تھا۔ آئی جی پولیس کے گھر کے قریب ہونے والے دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی اور اس وجہ سے پہلے یہ خیال کیا گیا کہ دھماکہ اس احتجاجی مظاہرے میں ہوا ہے۔
دھماکے کے نتیجے میں کافی دور تک عمارتوں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ نے پریس کلب کے سامنے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں کے خلاف احتجاج کیا۔
مظاہرین نے نگراں حکومت اور الیکشن کمیشن کے خلاف نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ کوئٹہ کی تین نشستوں پر انتخاب دوبارہ کرایا جائے یا ووٹوں کی گنتی دوبارہ کی جائے۔







