مشرف کی ضمانت کی درخواست مسترد

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو حبسِ بےجا میں رکھنے کے مقدمے میں ضمانت کی درخواست مسترد کردی ہے۔
ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت نے مقدمے کے سرکاری پراسیکوٹر سے کہا ہے کہ اس مقدمے کا حتمی چالان عدالت میں پیش کیا جائے۔
تین نومبر سنہ دوہزار سات میں ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو اُن کے اہلخانہ سمیت اُن کے گھروں میں نظربند کردیا گیا تھا تاہم جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ سنہ دو ہزار نو میں اُس وقت درج کیا گیا جب وہ بیرون ملک تھے۔
یہ مقدمہ ایک وکیل اسلم گھمن ایڈووکیٹ کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔
بدھ کے روز اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج کوثر عباس زیدی نے سابق فوجی صدر کی طرف سے اس مقدمے میں ضمانت کی درخواست کی سماعت کی تو اُن کے وکیل الیاس صدیقی ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اُن کے موکل کے خلاف مقدمہ اُس وقت درج کیا گیا جب وہ ملک میں موجود نہیں تھے۔
اُنہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر کچھ ہفتے قبل اس مقدمے میں انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کا اضافہ کیا گیا ہے۔
الیاس صدیقی کا کہنا تھا کہ اُن کے موکل کے خلاف استغاثہ کے پاس ایسے کوئی شواہد نہیں ہیں جن سے پرویز مشرف کو مجرم ٹھرایا جاسکے۔
اس مقدمے میں سرکاری وکیل عامر ندیم نے اس درخواست کے خلاف دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملزم پرویز مشرف کے خلاف سنجیدہ نوعیت کے الزامات ہیں اس لیے اُن کی ضمانت منظور نہیں کی جانی چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اُنہوں نے کہا کہ قانون میں ہے کہ انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت جس جرم کی سزا دس سال ہو اُس میں ضمانت نہیں لی جاسکتی۔
سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف نے بطور صدر اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی نظربندی کے احکامات جاری کیے تھے اور اب صدر گھر گھر جاکر اپنے فیصلے پر عمل درآمد تو نہیں کرواسکتے۔
عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ ابھی تک اس مقدمے کا چالان عدالت میں پیش کیوں نہیں کیا گیا جس پر عامر ندیم کا کہنا تھا کہ اُنہیں محص اس مقدمے میں ملزم کی ضمانت کی درخواست کے خلاف دلائل دینے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج کا کہنا تھا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ دلائل دینے کے لیے کوئی اور وکیل ہو اور مقدمے کا چالان پیش کرنے کے لیے کوئی اور۔
اس مقدمے کے تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ اس حتمی چالان پیش کرنے سے متعلق تین سرکاری اداروں سے جواب بھی طلب کیے گئے ہیں جو ابھی تک نہیں ملے۔ تفتیشی افسر نے ان تین اداروں کے نام عدالت کو نہیں بتائے۔
فریقین کے دلائل سُننے کے بعد عدالت نے اس درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا بعدازاں عدالت نے جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی۔
یاد رہے کہ اس مقدمے کے مدعی اسلم گھمن نے اس مقدمے کی پیروی کرنے سے معذوری ظاہر کی ہے تاہم ابھی تک اُنہوں نے اس ضمن میں عدالت یا تفتیشی افسر کو تحریری طور پر آگاہ نہیں کیا۔
راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں پرویز مشرف کی ضمانت منظور کرچکی ہے۔ سابق آرمی چیف ان دنوں اسلام آباد میں واقع اپنے فارم ہاؤس میں قید ہیں جنہیں وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ نے سب جیل قرار دیا ہوا ہے۔







