عمران خان کے لیے میچ ختم ہوا ہے سیریز نہیں

- مصنف, محمد الیاس خان
- عہدہ, بی بی سی نیوز، اسلام آباد
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور سیاست دان عمران خان کے لیے یہ انتخابات ایک اس ٹیسٹ میچ کی مانند ہے جو بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گیا ہو۔
عمران نے ایک طویل اور مشکل انتخابی مہم چلائی اور اگرچہ وہ اپنی ٹیم کو فتح سے ہمکنار نہ کرا سکے تاہم انہوں نے شکست بھی نہیں ہونے دی۔
عمران خان کی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف صوبہ خیبر پختونخوا میں سب سے بڑی پارٹی بنی ہے۔ اس کے علاوہ قبائلی علاقوں کی کُل بارہ نشستوں میں سے پی ٹی آئی نے ایک سیٹ جیتی ہے اور شائد ایک اور سیٹ بھی جیت لے۔
زیادہ تر نتائج آنے کے بعد ہی یہ معلوم ہو سکا کہ عمران خان قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نہیں بن پائیں گے۔
مبصرین کے مطابق عمران خان کے لیے یہ شاندار کامیابی ہے۔ اس کے بل بوتے پر عمران خان صوبہ پنجاب کے دیگر علاقوں میں اپنی جگہ بنائیں گے۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں پی ٹی آئی کے لوگوں کو ووٹ تو بہت ملے ہیں لیکن نشستیں بہت کم۔
لیکن اس بات کا دارومدار اس بات پر ہے کہ وہ جلسے میں فورک لفٹر سے گر جانے کے بعد اپنی چوٹوں سے کتنی جلد صحتیاب ہوتے ہیں۔
ہسپتال سے اپنی انتخابی مہم کے آخری خطاب سے عمران خان نے دل کی باتیں کیں۔ انہوں نے اپنی سترہ سالہ جدوجہد پر بات کی، مشکلات کی بات کی اور بیوی کھونے کی تکلیف کی بات کی۔
انہوں نے کہا ’میری بیچاری بیوی کو مجھے چھوڑنا پڑا کیونکہ یہ لوگ اس کو چین سے رہنے نہیں دے رہے تھے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان کو واحد ورلڈ کپ جتوانے والے عمران خان نے 1990 کے وسط میں اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا جو اتنا اچھا نہ تھا۔
ان کو مذہبی اور اعتدال پسند لوگوں نے تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کو ’صیہونی ایجنٹ‘ کہا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کی شادی سر جیمز گولڈسمتھ کی بیٹی جمائما گولڈسمتھ سے ہوئی تھی۔
ان کی یہ شادی نو سال برقرار رہی اور ان کے دو بیٹے ہیں۔
لوگوں کے لیے وہ ایک کمزور سیاستدان تھے جن کا نہ تو کوئی نظریہ تھا اور نہ ہی اہم ایشوز پر واضح لائن۔
ان کو سیاست میں جلد ہی ایک سکینڈل کا سامنا کرنا پڑا جب مشہور سماجی کارکن عبدالستار ایدھی نے لندن میں یہ کہتے ہوئے پناہ لی کہ عمران خان اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ حمید گل ان کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔
سنہ 2010 میں عبدالستار ایدھی نے ایک انٹرویو میں وضاحت کرتے ہوئے کہا ’یہ وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے تھے اور ایسا کرنے کے لیے وہ میرا کندھا استعمال کرنا چاہتے تھے۔ جب میں نے اس سازش کا حصہ بننے سے انکار کیا تو انہوں نے مجھے اغوا کرنے کی دھمکی دی۔ میں سیاسی شخص نہیں ہوں اس لیے پہلی فلائیٹ پکڑ کر میں لندن چلا گیا۔‘
تاہم عمران خان کی جماعت نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان چاہتے تھے کہ ایدھی ان کے ساتھ ملیں تاکہ حکومت پر زور ڈالا جاسکے کہ صحت، تعلیم اور ویلفیئر کے لیے مزید رقم مختص کی جائے۔
کہا جا رہا ہے کہ حال ہی میں ریٹائر ہوئے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل شجاع پاشا نے عمران کے سیاسی کیریئر کو مستحکم کرنے میں مدد دی ہے۔
عمران خان سنہ 2002 کے انتخابات میں صرف ایک سیٹ جیت سکے جبکہ 2008 کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔ لیکن پچھلے چند سالوں میں عمران خان نے جارحانہ بیٹنگ کی ہے اور لوگوں کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
عمران خان نے لوگوں کو اپنی طرف مائل ’نیا پاکستان‘ کا نعرہ لگا کر کیا جس میں وہ پرانے لوگ نہ ہوں ’جنہوں نے میچ فکس کر کے اپنی باریاں لگا رکھی ہیں۔‘
الیکشن کے نتائج سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عمران پشتونوں میں بڑے مقبول ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ خود بھی نیازی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جو پنجاب کے میانوالی شہر میں آباد ہیں۔
اس کے علاوہ انہوں نے امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے خلاف آواز بلند کی ہے۔
عمران کا کہنا ہے کہ پاکستان میں شدت پسندی کی بڑی وجہ امریکہ کا افغانستان پر قبضہ ہے۔ عمران خان کی جانب سے امریکی ڈرون طیارے مار گرانے کی آواز بھی بہت پسند کی جاتی ہے۔
اگر عمران کی جماعت صوبہ خیبر پختونخوا میں حکومت بناتی ہے تو کیا وہ 2014 میں افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا میں رکاوٹیں ڈالیں گے یا نہیں۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا۔
تاہم ایک بات تو واضح ہے کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن بینچوں پر عمران موثر طریقے سے مخالفت کریں گے اور وہ ان نشستوں کو اگلے انتخابات میں اپنی جیت کے لیے بھر پور انداز میں استعمال کریں گے۔
عمران صرف 61 سال کے ہیں اور بہترین صحت کے مالک ہیں۔ اگر ان کی کمر کو زیادہ نقصان نہیں ہوا تو وہ اپنے پیروں پر جلد ہی کھڑے ہو جائیں گے۔ میچ ختم ہوا ہے لیکن سیریز ابھی جاری ہے۔







