’جماعت کی کارکردگی کی ذمہ داری عائد کرنا ضروری‘

پاکستان کے سابق وزیرِاعظم اور پیپلز پارٹی کے سینیئر وائس چیئرمین یوسف رضا گیلانی نے اپنے پارٹی عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

ملتان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یوسف رضا گیلانی نے اعتراف کیا کہ وزیرِاعظم کی حیثیت سے اُن کی کارکردگی کے باعث پاکستان پیپلز پارٹی کو انتخابات میں نقصان پہنچا ہے۔

’جب تک آپ کارکردگی کی ذمہ داری کسی پر عائد نہیں کریں گے، تو پارٹی مؤثر طریقے سے آگے نہیں چل سکتی۔‘

اگرچہ یوسف رضا گیلانی پیپلز پارٹی کی عہدیداروں میں دوسرے نمبر پر آتے ہیں البتہ انہوں نے پارٹی سے سب سے بڑے عہدیدار اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا دفاع کرتے ہوئے کہا ’وہ پارٹی ہیں، ہم حکومت تھے۔ حکومت کی کارکردگی کا اثر چیئرمین کے عہدے پر نہیں پڑنا چاہیے۔ وہ اُس سے منسلک نہیں تھے۔ وہ کابینہ کا حصہ نہیں تھے۔‘

گیارہ مئی کے غیر حتمی انتخابی نتائج کے مطابق پاکستان میں پانچ سال تک حکومت کرنے والی جماعت، پاکستان پیپلز پارٹی کی پارلیمنٹ میں موجودگی، لگ بھگ ایک تہائی تک سکڑ گئی ہے۔ اُس کے دورِ حکومت میں سب سے طویل عرصے تک، سب سے بڑا عہدہ یوسف رضا گیلانی ہی نے سنبھالے رکھا۔

’اگر کوئی کوتاہی یا لاپرواہی ہوئی ہو گی تو کسی میں ذمہ داری لینے کی ہمت ہونی چاہیے۔ چار سال سے زائد عرصے تک ملک کا وزیرِاعظم رہتے ہوئے مجھ میں کمی رہی ہو گی۔‘

انتخابات کے انعقاد کے بارے میں سابق وزیرِ اعظم نے کہا ’چار دن بعد بہت سے واقعات اور معلومات سامنے آئیں گی جن سے پتہ چل جائے گا کہ انتخابات کیسے ہوئے۔ میں پیش گوئی نہیں کر رہا بلکہ پورے اختیار کے ساتھ بتا رہا ہوں۔‘

یوسف رضا گیلانی نے بتایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہر حلقے کے ہر پولنگ سٹیشن کے نتائج کا جائزہ لے رہی ہے جس کے بعد وہ انتخابات کے بارے میں اپنا موقف واضح کرے گی۔

امکان ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی آئندہ دورِ حکومت میں حزبِ اختلاف کی ذمہ داری سنبھالے گی۔ سابق وزیرِاعظم نے انتخابات میں اکثریتی نشستیں جیتنے والی جماعت مسلم لیگ نون کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ’جو اُن کی کوتاہیاں ہیں یا برائیاں ہیں اُس پر ہمارا کھلم کھلا موقف ہو گا۔ ہم برائے نام اپوزیشن نہیں ہوں گے۔‘