پی ٹی آئی، ایم ایم اےکے مینڈیٹ میں مماثلت

پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں پر مشتمل پختون بیلٹ نے ان انتحابات میں عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کو جو مینڈیٹ دیا ہے وہ کسی حد تک سنہ 2002 کے انتخابات میں مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کو دیے گئے مینڈیٹ سے ملتا ہے۔
دونوں انتخابات میں افغانستان کی صورتحال اس صوبے کے ووٹروں کے لیے ایک اہم معاملہ تھا جس کی بنیاد پر انہوں نے اپنا ووٹ دینے کا فیصلہ کیا۔
سنہ دو ہزار دو کے انتخابات افغانستان پر امریکی حملے کے ایک ہی سال بعد ہوئے تھے اوراس جنگ کے نتیجے میں پاکستان میں لاکھوں افغان مہاجرین کی پھر آمد کی وجہ سے یہ ووٹروں کے لیے نہ صرف ایک اقتصادی بلکہ جذباتی معاملہ بھی تھا۔ دوسری جانب موجودہ انتخابات میں ڈرون حملے اور صوبے میں سکیورٹی کے معاملات اہم ٹھہرے۔
اب تک کے غیر حتمی اندازوں کے مطابق صوبے سے قومی اسمبلی کی 35 میں سے 15 اورصوبائی اسمبلی کی 99 میں سے 34 نشستیں تحریک انصاف کے حصے میں آئی ہیں (یہ تعداد کم اور زیادہ ہوسکتی ہے)۔ اس سے یہ صورتحال واضح ہونے میں مدد ملی ہے کہ کچھ اتحادیوں کوساتھ ملا کر تحریک انصاف ہی صوبہ خیبرپختونخوا میں حکومت بنائے گی۔
سال 2002 میں ایم ایم اے کو ملنے والی قومی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد 35 میں سے 29 جبکہ 99 صوبائی میں سے 48 نشستیں ملی تھیں۔
تحریک انصاف کوقومی اسمبلی کی پشاور کی چاروں، نوشہرہ کی دونوں، مردان کے تین میں سے ایک، صوابی کے دو میں سے ایک، کرک، ہنگو اور مالاکنڈ سے ایک ایک نشست ملی ہے۔ اسی طرح اس کو ایبٹ آباد اور سوات کی دونوں نشستیں ملی ہیں۔
عمران خان نے اپنی انتخابی مہم اوراس سے پہلے جب بھی پختونوں کومخاطب کیا تو ان کی دکھتی رگ پرہ ہاتھ رکھتے ہوئے ان سے ان کے خطے میں ڈرون حملے بند کروانے کا وعدہ کیا۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امریکی جنگ سے پاکستان کو علیحدہ کرکے فاٹا اور صوبے میں امن بحال کروا دیں گے۔
اس طرح ان دونوں بین الاقوامی ایشوز نے جو اس خطے کے مقامی ہیں، عمران خان کو ووٹ دلوانے میں واضح کردار ادا کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس خطے کے لوگوں نے سال 2002 کے انتخابات کے دوران اس سے زیادہ ووٹ اور نشستیں ایم ایم اے کو دی تھیں۔ اس ووٹ دینے کی جو بڑی وجوہات سامنے آئی تھیں ان میں یہاں کے لوگوں کی افغانستان میں جنگ کے حوالے سے اس وقت کے صدر پرویز مشرف کی حکومت کی پالیسی سے ناراضی تھی اوراس حوالے سے دینی جماعتوں کا یہ اتحاد ان جذبات کی ترجمانی کرنے کے لیے پہلے سے ہی میدان میں موجود تھا۔
تاہم اب کی بار عمران خان بھی انہی نعروں کو لے کر اٹھے جو دینی جماعتوں کے نعروں میں بھی شامل تھے لیکن عام لوگوں نے آزمائے ہوئے ایم ایم اے کی سابق اتحادی جماعتوں کے مقابلے میں لبرل نظرآنے والے عمران خان کوچانس دینے کا فیصلہ کیا۔
ایم ایم اے اور پاکستان تحریک انصاف کو ملنے والے مینڈیٹ کی دیگر دو بڑی وجوہات میں سماجی انصاف کا نہ ملنا اور اسمبلیوں میں پہنچ کر ووٹر کو بھول جانے والے اشرافیہ کو سبق سکھانا شامل ہیں۔
انتخابی معاملات پر گہری نظر رکھنے والے سماجی ماہرین کہتے ہیں کہ اب امتحان لوگوں کا ختم اور عمران خان اور ان کی ٹیم کا شروع ہوچکا ہے۔
انتخابات پرتبصرہ کرتے ہوئے ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان پر مشتمل قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 25 سے مولانا فضل الرحمان کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہونے والے پیپلز پارٹی کے امیدوار اور قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی سپیکر فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ ’ان نتائج سے تویہی لگتا ہے کہ ایک بار اس علاقے کو نئے تجربے کے لیے چن لیا گیا ہے‘۔







