خیبر پختونخوا: موروثی سیاست کا خاتمہ

اسفند یار ولی اپنے آبائی حلقے میں ہار گئے
،تصویر کا کیپشناسفند یار ولی اپنے آبائی حلقے میں ہار گئے

خیبر پختونخوا میں حالیہ انتخابات میں پہلی مرتبہ بڑے سیاسی خاندانوں کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان میں پشاور سے بلور اورارباب خاندان کے بیشتر افراد شامل ہیں۔

ادھر جنوبی اضلاع میں سیف اللہ برادران، میاں خیل برادران اور کنڈی خاندان کے امیدواروں کو بھی ہار ہوئي ہے۔

پاکستان میں انیس سو پچاسی کے بعد سے ان خاندانوں کے افراد کسی نہ کسی شکل میں پارلیمان میں موجود رہے ہیں جبکہ بعض خاندان ان میں ایسے بھی ہیں جنھیں گزشتہ اٹھائیس سالوں میں ہونے والے انتخابات میں شکست نہیں ہوئی۔

پشاور میں بلور خاندان اہم سیاسی خاندان سمجھا جاتا ہے۔ این اے ون پشاور ون کی نشست تو ایسی ہے جہاں اکثر سیاسی پنڈت کہتے آئے ہیں کہ اس نشست پر غلام احمد بلور کو شکست دینا انتہائی مشکل ہے۔

صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے تین پر شدت پسندوں کی کارروائی میں ہلاک ہونے والے بشیر احمد بلور کے بیٹے ہارون بلور انتخاب میں حصہ لے رہے تھے۔

اسی طرح صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے ون پر الیاس بلور کے صاحبزادے غضنفر بلور میدان میں اترے تھے لیکن تینوں ناکام رہے ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماوں کا کہنا ہے کہ لوگوں نے ان کی قربانیوں کی ذرا بھی قدر نہیں کی ہے۔

اسی طرح ارباب خاندان کے بیشتر امیدوار ناکام ہوئے ہیں جو مختلف سیاسی جماعتوں کی ٹکٹ پر میدان میں تھے۔ ان میں پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق وفاقی وزیر ارباب عالمگیر اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ارباب نجیب اللہ شامل ہیں۔

انتخابی مہم کے دوران لکی مروت میں ایک دوست سے ٹیلیفون پر رابطہ ہوا تو ان کا کہنا تھا کہ اب لکی مروت سے خان ازم ختم ہو رہا ہے۔ جب میں نے ان سے پوچھا کہ وہ کیسے تو ان کا کہنا تھا کہ ایک تو پہلی مرتبہ متوسط طبقے کے نوجوان میدان میں آئے ہیں جن میں سے اکثر آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں اور ان امیدواروں کے جلسوں میں لوگ بھر پور شرکت بھی کر رہے ہیں۔

لکی مروت سے سیف اللہ برادران ایک نشست بھی نہیں جیت سکے۔ ان انتخابات میں انور سیف اللہ خان کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ وہ در اصل وزارت اعلی کا انتخاب لڑ رہے ہیں۔ انور سیف اللہ کے بھائی سلیم سیف اللہ خان بھی اپنی نشست پر مولانا فضل الرحمان سے شکست کھا چکے ہیں۔

سلیم سیف اللہ نواز لیگ کی ٹکٹ پر میدان میں اترے تھے ۔ سابق وفاقی وزیر حبیب اللہ خان کے بیٹے اور انور کمال مرحوم کے بھائی اختر منیر خان نواز لیگ کی ٹکٹ پر انتخاب میں حصہ لے رہے تھے لیکن وہ کامیاب نہیں ہو سکے۔

ڈیرہ اسماعیل خان سے میانخیل خاندان کے چار بھائی میدان میں اترے تھے۔ تین بھائیوں کو مسلم لیگ نواز کا ٹکٹ ملا تھا۔ جبکہ ایک بھائی سابق رکن قومی اسمبلی عمر فاروق میانخیل کو نواز شریف نے مبینہ طور پر ٹکٹ دینے سے انکار کر دیا تھا۔

ایک بھائی ثناءاللہ میانخیل انیس سو پچاسی سے لے کر اب تک شاید ایک یا دو مرتبہ ہارے ہیں اوراکثر وہ کامیاب ہوتے آئے ہیں۔ اس مرتبہ وہ بھی شکست سے دو چار ہوئے۔ ان کی دیگر بھائی فتح اللہ میانخیل اور ایضار میانخیل بھی ہار گئے ہیں۔

کنڈی خاندان سے تعلق رکھنے والے افراد بھی پارلیمان تک پہنچ جاتے تھے۔ کبھی فضل کریم کنڈی کی شکل میں تو کبھی حبیب اللہ کنڈی اور فیصل کریم کنڈی کے روپ میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں نظر آتے تھے۔ اس مرتبہ کنڈی خاندان بھی اسمبلیوں میں نہیں پہنچ سکا۔

صوبائی اسمبلی کے امیدواروں میں خیبر پختونخوا سے ٹیلی وژن کی سکرین پر سب سے زیادہ نظر آنے والے سابق صوبائی وزیراطلاعات میاں افتخار حسین بھی اس مرتبہ انتخابات میں کامیابی حاصل نہیں کر پائے۔

قومی اور صوبائی اسمبلی میں عوام کو روائتی شناسا چہروں کے بجائے پاکستان تحریک انصاف کے بڑی تعداد میں نئے چہرے نظر آئیں گے۔

امکان ہے کہ خیبر پختونخوا کی نو منتخب اسمبلی میں اس مرتبہ ستر سے زیادہ نئے چہرے حلف اٹھائیں گے جبکہ پچیس کے لگ بھگ چہرے ایسے بھی ہیں جو پہلے بھی اسمبلیوں میں رہ چکے ہیں۔

قومی اسمبلی کے اراکین میں عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان، غلام احمد بلور، مسلم لیگ کے امیر مقام اپنی اپنی نشستیں ہار گئے ہیں۔