تاریخ کے ’سب سے شفاف‘ انتخابات کی امید

حکام کا کہنا ہے کہ 11 مئی کو ہونے والے انتخابات ملک کی تاریخ کا شفاف ترین انتخاب ہوگا کیونکہ ان میں گزشتہ انتخابات میں وسیع پیمانے پر ہونے والی دھاندلیوں اور لوٹ کے تدارک کے لیے نئے اقدامات کیے گئے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ نئی انتخابی فہرست تیار کی گئی ہے اور ٹیکسٹ میسج سروس بھی شروع کی گئی جس کے ذریعے ووٹروں کو ووٹ کے متعلق معلومات ان کے موبائل فون پر فراہم کی جاتی ہیں۔
گزشتہ انتخابات میں یہ الزامات عائد ہوتے رہتے تھے کہ فلاں امیدوار یا سرکاری اداروں نے غلط طریقے سے ووٹ حاصل کیے ہیں وٹر لسٹ میں جعلی تین کروڑ 70 لاکھ ووٹرز کے نام ڈال رکھے تھے۔
لیکن ان دعووں کے باوجود بہت سے لوگوں کو خدشہ ہے کہ کیا ان تشدد کے ماحول میں انتخابات صاف شفاف ہو سکتے ہیں؟
جہاں شدت پسندوں کے حملوں کے نتیجے میں سیکولر پارٹیاں انتخابی مہم سے زیادہ تر دور رہیں وہیں انتخاب کے سلسلے میں ہلاکتوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر چکی ہے۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ وہ اس بارے میں نہیں جانتے کہ اس خون خرابے کا ووٹروں کی آمد پر کیا اثرات مرتب ہونگے یا لوگ جان کے ڈر سے پولنگ سٹیشن آئیں گے بھی یا نہیں۔
نیشنل ڈیٹا بیس ریجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کا کہنا ہے کہ ووٹر لسٹ کو شہریوں کے شناختی اعداد و شمار سے منسلک کر دیا گیا ہے اور ایک ڈیجیٹل ڈیٹا بیس تیار کر لیا گیا ہے جو ملک کی 96 فی صد آبادی کا احاطہ کرتی ہے۔
سنہ 2001 کے بعد سے ووٹروں کے اعداد وشمار کو کمپیوٹر پر ڈالا جا رہا ہے جس میں ان کی شناخت کے لیے بایو میٹرکس اور چہرے کی ڈیجیٹل تصویر بھی شامل ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نادرا کے سربراہ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہر طارق ملک نے کہا ’ہر ووٹر کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (سی این آئی سی) سے منسلک ہے اوور ہر ایک سی این آئی سی بایومیٹرک شناخت سے منسلک ہے۔ اس لیے اس بات کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی کہ میں آپ کا ووٹ ڈال دوں یا پھر میں اپنا ووٹ ہی ایک سے زیادہ بار ڈال سکوں۔‘
انھوں نے کہا کہ ماضی کی طر ح اگر جعلی ووٹ ڈالنے کی کوشش کی جائے گی تو اسے آسانی کے ساتھ پکڑ لیا جائے گا۔
مسٹر ملک نے یہ بھی کہا کہ ’ہر ووٹر کی ڈیجیٹل فوٹو ووٹر لسٹ میں موجود ہے اور بیلٹ پیپر حاصل کرنے سے قبل اسے اپنے نام کے سامنے اپنے بائیں انگوٹھے کا نشان لگانا ضروری ہے۔‘
اگر اس بابت کوئی شکایت ہوتی ہے تو بایومیٹرک ڈیٹا کے ذریعے اس مخصوص ووٹر یا کسی خاص پولنک سٹیشن کے ووٹروں کے بارے میں آسانی سے جانچ ہو سکتی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ’ہم لوگوں نے ایسے تین کروڑ 70 لاکھ جعلی ووٹروں کو خارج کر دیا ہے جو یا تو تھے ہی نہیں یا ایک سے زیادہ بار ان کا اندراج ہو گیا تھا۔ اسی کے ساتھ ہم لوگوں نے تین کروڑ 60 لاکھ ایسے ووٹروں کو شامل کیا ہے جنہیں سی این آئی کارڈ جاری کیا گیا تھا اور ان کا نام فہرست میں نہیں تھا۔‘

اس سال کے اوائل میں نادرا نے ایک ایس ایم ایس سروس شروع کی جس سے یہ پتہ چلایا جا سکے کہ ایک ووٹر کس شہر، قصبے یا گاؤں سے رجسٹرڈ ہے۔
سوموار کو الیکشن کیمشن نے نادرا کا ایک دوسرا ایس ایم ایس سافٹ ویئر جاری کیا جس سے ووٹر کو اپنے نمبر شمار اور انتخابی فہرست اور اس پولنگ سٹیشن کا پتہ چل جائے جہاں اسے ووٹ ڈالنا ہے۔
سنہ 1990 کے دہائی میں باضابطہ طور پر انتخابات میں دھاندلی ہوا کرتی تھی جسے مقامی لوگ ’سائنسی لوٹ‘ کہتے تھے اور اس کا الزام ملیٹری کی انٹلیجنس سروس آئی ایس آئی پر ڈال دیا جاتا تھا۔
بہرحال فوجی حکام نے اس بات کی تردید کی ہے کہ کبھی انھوں نے انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہو۔
پہلے جعلی ووٹنگ، متعدد ووٹنگ اور راتوں رات پولنگ سٹیشن کی تبدیلی کے ذریعے کسی خاص امیدوار کو دوسرے پر برتری دے دی جاتی تھی اور یہ فراڈ کسی ڈیٹا کی عدم موجودگی میں ثابت نہیں کیا جا سکتا تھا۔
بہر حال مسٹر ملک نے کہا ہے کہ کوئی بھی ووٹر لسٹ خامیوں سے کلی طور پر پاک نہیں ہو سکتی لیکن اس بار اس بات کا قوی امکان ہے کہ وسیع پیمانے پر ہونے والے انتخابی فراڈ نہیں ہو سکیں گے۔







