تین سابق وزیرِ اعظم میدان میں

پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات میں یہ پہلا موقع ہے جب تین سابق وزرائے اعظم امیدوار کے طور پر انتخابی میدان میں اترے ہیں۔
اس سے پہلے دو سے زیادہ سابق وزرائےاعظم نے ایک ساتھ انتخابات میں امیدوار کی حیثیت سے حصہ نہیں لیا۔
انتخابات میں حصہ والے سابق وزرائے اعظم میں نواز شریف ، میر ظفر اللہ جمالی اور راجہ پرویز اشرف شامل ہیں۔
نواز شریف 16 برس کے بعد کسی انتخابی حلقے سے امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے سربراہ لاہور اور سرگودھا سے قومی اسمبلی کی دو نشستوں کے لیے امیدوار ہیں۔
1977، 1985اور 2002کے انتخابات ایسے تھے جس میں کسی سابق وزیِراعظم نے بطور امیدوار حصہ نہیں لیا تھا۔
پیپلز پارٹی کے بانی سربراہ ذوالفقار علی بھٹو لگاتار دو مرتبہ وزیر اعظم بنے۔ 1970کے بعد انہوں نے 1977 کے انتخابات میں حصہ لیا۔
1988میں محمد خان جونیجو واحد سابق وزیرِاعظم تھے جنہوں نے انتخابات میں بطور امیدوار حصہ لیا۔
1990 کے انتخابات میں محمد خان جونیجو اور بےنظیر بھٹو نے سابق وزرائے اعظم کی حیثیت سے انتخاب لڑا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
1993اور 97 میں بےنظیر بھٹو اور نواز شریف دونوں سابق وزیر اعظم کی حیثیت سے میدان میں اترے اور اس طرح 93 میں بےنظیر بھٹو وزیرِاعظم کا عہدہ سنبھالا جب کہ نواز شریف قائدِ حزبِ مخالف مقرر ہوئے۔
1997 میں ترتیب الٹ ہو گئی اور نواز شریف وزیرِ اعظم جب کہ بےنظیر بھٹو قائد حزب مخالف بن گئیں۔
2002 کے انتخابات میں بے نظیر بھٹو اور نواز شریف جلاوطنی کی وجہ سے انتخابی عمل سے باہر رہے۔ 2008 میں بے نظیر بھٹو اور نواز شریف اپنی جلاوطنی ختم کرکے پاکستان آگئے لیکن بے نظیر کا قتل ہوگیا جب کہ نواز شریف نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر انتخابات میں حصہ نہیں لیا۔
2008 کے انتخابات میں دو سابق وزرائےاعظم چودھری شجاعت حسین اور میر ظفر اللہ جمالی نے انتخاب لڑا لیکن دونوں کامیاب نہ ہوسکے۔

اس مرتبہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی فیصلے کی وجہ سے نااہل ہونے کی بنا پر انتخابی عمل سے باہر ہیں جب کہ چودھری شجاعت حسین سینیٹر ہونے کے باعث انتخاب نہیں لڑ رہے۔
نگراں سابق وزرائے اعظم میں غلام مصطفیٰ جتوئی اور میر بلخ شیر مزاری قومی اسمبلی کا انتخاب لڑچکے ہیں۔
قومی اسمبلی میں سابق قائد حزبِ مخالف میں سے نواز شریف ، مولانا فضل الرحمان، پرویز الہیٰ اور چودھری نثار خان بھی امیدوار کی حیثیت سے میدان میں ہیں۔
قائدِ حزب ِمخالف کے علاوہ سابق سپیکرز میں سے سید فخرامام اور فہمیدہ مرزا بھی اپنے اپنے آبائی حلقوں سے انتخابات میں حصہ رہے ہیں۔







