کراچی: اے این پی کے امیدوار فائرنگ سے ہلاک

صادق زمان خٹک کراچی کے حلقہ این اے 254 سے عوامی نیشنل پارٹی کے امید وار تھے
،تصویر کا کیپشنصادق زمان خٹک کراچی کے حلقہ این اے 254 سے عوامی نیشنل پارٹی کے امید وار تھے

پاکستان کے صوبہ سندھ میں عام انتحابات سے قبل سیاسی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں کو شدت پسندوں کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔

جمعہ کو کراچی میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار صادق زمان خٹک کو ہلاک کر دیا۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق نا معلوم افراد نے صادق زمان خٹک پر بلال کالونی میں اس وقت فائرنگ کی جب وہ جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے بعد مسجد سے باہر آ رہے تھے۔

صادق زمان خٹک کراچی کے حلقہ این اے 254 سے عوامی نیشنل پارٹی کے امید وار تھے۔

پولیس کے ترجمان ایس پی پی شوکت عمران کا کہنا ہے کہ صادق زمان جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے بعد گھر جا رہے تھے کہ ان پر فائرنگ کی گئی جس میں وہ اپنے بیٹے ایمل خٹک سمیت ہلاک ہو گئے۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق مقتول پر قتل سمیت مختلف جرائم کے مقدمات دائر ہیں، جو عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

پولیس کو شبہ ہے کہ یہ واقعہ ذاتی دشمنی کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔

ایس ایس پی شوکت عمران کے مطابق جہاں یہ واقعہ پیش آیا وہ زیادہ تر پشتون آبادی ہے، جہاں باہر سے آ کر کوئی وارادت نہیں کرسکتا۔

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری بشیر جان کا کہنا ہے کہ صادق زمان جماعت کے سیاسی کارکن، شاعر اور ادیب تھے۔

بشیر جان جن پر بھی ایک بار حملے کی کوشش کی گئی تھی کا کہنا تھا کہ انہوں نے نگران حکومت، پولیس کو سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے کہا لیکن اس کے باوجود اس کا بندوبست نہیں کیا گیا۔

بشیر جان کے مطابق جمعہ کی دوپہر ایک بجے صادق زمان نے ٹیلی فون کر کے سکیورٹی کے بارے میں معلوم کیا تھا اس کے بعد انہوں نے دوبارہ پولیس حکام سے رابطہ کیا لیکن کو جواب نہیں دیا گیا۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ اس وقت وہ دہشت گردوں اور پاکستان کے دشمنوں کے خلاف جنگ لڑے رہے ہیں اور انہیں تحفظ ملنا چاہیے۔

ادھر تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی کو فون کر اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

کراچی میں اے این پی کے امیدوار کی ہلاکت کے بعد حلقہ این اے 254 میں انتخابات ملتوی کر دیے گئے ہیں جبکہ اس حلقے میں نیا شیڈول بعد میں جاری کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ پاکستان میں انتخابی مہم کے آغاز کے بعد سے امیدواروں کے قافلوں، جلسوں اور دفاتر کو نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے علاوہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی اور بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں شدت پسندی کے واقعات میں گزشتہ چند روز سے اضافہ ہوا ہے۔

واضح رہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان نے اے این پی، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی انتخابی مہم اور سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے رکھی ہے کہ ان کے جلسوں کو نشانہ بنایا جائے گا جس کی وجہ سے عوامی نیشنل پارٹی نے عوامی اجتماعات کی بجائے گھر رابطوں کی مہم کے زریعے انتخابی مہم چلانے کا اعلان کیا تھا۔