اے این پی پھر ٹارگٹ: ایک ہلاک،گیارہ زخمی

صوبہ خیبر پختونخوا میں عام انتخابات سے قبل شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے
،تصویر کا کیپشنصوبہ خیبر پختونخوا میں عام انتخابات سے قبل شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں عام انتحابات سے قبل سیاسی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں کو شدت پسندوں کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔

پیر کو ضلع نوشہرہ میں عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما شاہد خان خٹک کے ہجرے پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک چوکیدار ہلاک اور ایک شخص زخمی ہو گیا ہے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ اے این پی کے رہنما اور صوبائی اسمبلی کے حلقہ ’پی کے‘ تیرہ سے امیدوار شاہد خان خٹک ہجرے میں موجود تھے کہ نہیں۔

نامعلوم مسلح افراد فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی ہے اور ملزمان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔

پیر کی شام کو ہی چارسدہ شہر کے ڈھیری بازار میں عوامی نیشنل پارٹی کے انتخابی دفتر کے قریب دھماکے میں دس افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کے وقت عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی اسمبلی سے امیدوار محمد خان بھی عوامی رابط مہم کے سلسلے میں انتخابی دفتر میں موجود تھے۔

ایک دن پہلے اتوار کو صوبے کے تین شہروں پشاور، کوہاٹ اور صوابی میں انتخابی سرگرمیوں کو نشانہ بنایا گیا تھا اور ان واقعات میں نو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

خیال رہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں انتخابی مہم کے آغاز کے بعد سے امیدواروں کے قافلوں، جلسوں اور دفاتر کو نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے علاوہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی اور بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں شدت پسندی کے واقعات میں گزشتہ چند روز سے اضافہ ہوا ہے۔