’ایک بھی اور کارکن جان سے گیا تو الیکشن کمیشن پر دعویٰ کروں گا‘

عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ ’اگر اب خدا نہ کرے میری پارٹی کا کوئی بھی کارکن جان سے گیا تو میں تو چیف الیکشن کمیشنر اورالیکشن کمیشن پر دعویٰ کروں گا‘۔

اسفندیار ولی خان نے بی بی سی اردو سے خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ ’جو سکیورٹی ہمیں ملی تھی وہ سکیورٹی مجھ سے اور میری جماعت کے رہنماؤں سے الیکشن کمیشن کے حکم پر واپس لے لی گئی ہے اور میں نے اس مسئلے پر چیف الیکشن کمشنر کو ایک خط بھی لکھا ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے کئی رہنماؤں پر حملے ہوئے جن میں وہ بچ گئے مگر ان کی حفاظت کے حوالے سے ان کے خدشات کو الیکشن کمیشن مد نظر نہیں رکھ رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس سب کو ’پری پول رگنگ‘ یا انتخابات سے پہلے دھاندلی ہی سمجھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم میدان سے بھاگنے والے نہیں ہیں اور ان کی جماعت اپنی زمہ داری کو سمجھتی ہے‘۔

انہوں نے سوال کیا کہ ’میں ایک بات نہیں سمجھتا کہ باقی تو ہر جگہ حکومت گارڈ دے رہی ہے مجھے کہتی ہے کہ اپنے لیے خود گارڈ لے آؤ۔ ٹھیک ہے میں اپنے گارڈ لے آؤں گا مگر اس میں بھی بشیر بلور کے بیٹے کے پاس اپنے ذاتی گارڈ تھے تو انہیں کہا گیا کہ ان میں کمی کریں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’یہ ان کی سمجھ سے بالاتر ہے کہ ان لوگوں کے ارادے کیا ہیں۔ مگر یہ لوگ ایک خاص ذہنیت کے خلاف چل رہے ہیں اور ایک خاص ذہنیت کے لوگوں کو یہ انتخابات سے باہر رکھنا چاہتے ہیں‘۔

انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اتنا کہہ دوں کہ جس ذہنیت کو یہ لوگ لانا چاہتے ہیں وہ اس ملک کے لیے ہی نہیں بلکہ خطے کے لیے تباہی ہو گی۔‘

اس سے قبل پاکستان کے ضلع سوات کےعلاقے منگلور اور چارسدہ کے علاقے شبقدر میں عوامی نیشنل پارٹی کے مقامی رہنماؤں پر حملوں کے نتیجے میں ایک مقامی رہنما مکرم شاہ ہلاک جبکہ ایک اور مقامی رہنما سید معصوم شاہ سمیت چار کارکن زخمی ہو گئے تھے۔

تفصیلات کے مطابق چارسدہ سے صوبہ خیبر پختونخواکے صوبائی اسمبلی کے امیدوار سید معصوم شاہ شبقدر کے قریب واقع علاقے کتوزئی میں ایک جلسے سے خطاب کر کے واپس جا رہے تھے کہ ایک کوڑے کے ڈھیر میں رکھے گئے دھماکہ خیز مواد میں دھماکے کے نتیجے میں وہ اپنے چار ساتھیوں سمیت زخمی ہو گئے۔

سید معصوم شاہ کی حالت اب بہتر بتائی جاتی ہے اور انہیں زیادہ شدید چوٹیں نہیں آئیں ہیں۔

انہیں اور باقی چار زخمی کارکنوں کو پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

اس سے قبل ضلع سوات کے علاقے منگلورمیں مقامی امن کمیٹی کے ممبر مکرم شاہ ایک ریمورٹ کنٹرول بم دھماکے کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

مقامی پولیس کے مطابق مکرم شاہ کی گاڑی کو اس وقت ریموٹ کنٹرول بم سے اڑا دیا گیا جب وہ گھر سے نکل کر گاڑی میں سوار ہونے جا رہے تھے۔

ڈی آئی جی ملاکنڈ عبد اللہ خان کے مطابق دھماکے کے وقت مکرم شاہ اپنے گھر سے پانچ سو میٹر کے فاصلے پر گاڑی کے قریب موجود تھے کہ سڑک کنارے نصب ایک بم پھٹ گیا جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہلاک ہو گئے۔

تھانہ منگلور کے ایس ایچ او ایماد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ دور افتادہ پہاڑی علاقے میں پیش آنے کی وجہ سے ابھی تک دھماکے کے بارے میں زیادہ تفصیلات نہیں مل سکی ہیں مگر دھماکے کے نتیجے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔

یہ واقع مینگورہ سے تقریباً تین کلو میٹر کے فاصلے پر منگلور کے علاقے بنجوٹ سر بنڑ میں اتوار کو دوپہر کے وقت پیش آیا۔

مکرم شاہ عوام نیشنل پارٹی کے رہنما اور منگلور امن کمیٹی کے ممبر بھی تھے جبکہ بم دھماکے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

یہ حالیہ دنوں میں ہونے والا تیسرا حملہ ہے جس کا نشانہ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ہیں۔

ان دونوں حملوں کی زمہ داری کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان نے قبول کر لی ہے۔

یاد رہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کو کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کی جانب سے دھمکی دی گئی کہ جماعت کے جلسوں کو نشانہ بنایا جائے گا جس کی وجہ سے عوامی نیشنل پارٹی نے عوامی اجتماعات کی بجائے گھر رابطوں کی مہم کے زریعے انتخابی مہم چلانے کا اعلان کیا تھا۔