مشرف کو عدالت کے سامنے ’سرنڈر‘ کرنا ہوگا

اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے سابق صدر پرویز مشرف کی عبوری ضمانت منسوخ کرنے اور ان کی گرفتاری کے احکامات پر قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کو سپریم کورٹ سے دادرسی کے لیے خود کو اعلیٰ عدلیہ کے سامنے پیش ہوکر سرنڈر کرنا ہوگا۔
جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے اعلیْ عدلیہ کے ججوں کو حبس نے بے جا میں رکھنے کے مقدمے میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی عبوری ضمانت منسوخ کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔
ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ کسی ملزم کا عدالت سے ضمانت مسترد ہونا ایک معمول کا واقعہ ہے اور ہر روز اس طرح کے واقعات عدالتوں میں رونما ہوتے ہیں۔
سابق وزیر قانون ڈاکٹر خالد رانجھا کا کہنا ہے کہ جب کسی ملزم کی ہائی کورٹ کی سطح سے ضمانت مسترد ہوتی ہے تو اس کے داد رسی کے لیے اعلیٰ عدالت سے رجوع کیا جاتا ہے جو سپریم کورٹ ہے۔
قانونی ماہرین کے بقول جنرل پرویز مشرف کو گرفتاری سے بچنے کے لیے سپریم کورٹ میں پیش ہو کر خود کو عدالت کے سامنے سرنڈر کرنا ہوگا۔
ڈاکٹر خالد رانجھا نے یہ خدشہ ظاہر کیا کہ اگر جنرل مشرف عدالت میں خود پیش نہیں ہوتے تو یہ ممکن ہے کہ عدالت ان کی ضمانت مسترد ہونے پر ان کی کوئی دادرسی نہ کرے۔
معروف قانون دان سلمان اکرم راجہ کا موقف ہے کہ اگر پولیس چاہے تو ضمانت خارج ہونے کے بعد جنرل پرویز مشرف کو گرفتار کرسکتی ہے۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا ’اگر پولیس نے جنرل مشرف کو گرفتار کرنے کی کوشش کی اور انہوں نے طاقت کے زور پر گرفتاری نہ دی تو یہ ایک غیر قانونی عمل ہوگا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ماہرین قانون کا اس بات پر اتفاق نہیں ہے کہ ضمانت مسترد ہونے کے بعد جنرل مشرف مفرور کہلائیں گے۔
ڈاکٹر خالد رانجھا کے بقول کسی ملزم کو مفرور قرار دینے کا ایک طریقہ موجود ہے اور فوجداری قانون کے تحت ملزم کو چالان پیش ہونے کے بعد یا تو متعلقہ ٹرائل کورٹ مفرور قرار دیتی ہے یا پھر تفتیشی افسر ملزم کو مفرور قرار دے۔
اس کے برعکس سلمان اکرم کی رائے ہے کہ اگر اسلام آباد ہائی کورٹ نے جنرل مشرف کی ضمانت مسترد ہونے پر انہیں فوری گرفتار کرنے کا حکم دیا اور جنرل مشرف نے مزاحمت کی تو اس صورت میں ان کو مفرور قرار دیا جا سکتا ہے۔
فوجداری قانون کے ماہر زاہد حسین بخاری کا کہنا ہے کہ اگر جنرل مشرف گرفتار ہوجاتے ہیں تو اس صورت میں انہیں ضمانت کے لیے متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنا ہوگا اور وہ براہ راست سپریم کورٹ میں ضمانت بعد از گرفتاری دائر نہیں کر سکتے۔
ان کے بقول ٹرائل کورٹ سے ضمانت مسترد ہونے پر ان کو پہلے ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ جانا پڑے گا۔
سید زاہد حسین بخاری کی رائے ہے کہ جنرل مشرف کی گرفتاری کی صورت میں ان کی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دے جاسکتا ہے اور اس قانون میں اس کی گنجائش ہے ۔ ان کے بقول کئی ایسی مثالیں موجود ہیں جب گرفتار کیے گئے افراد کو ان کے گھر پر قید رکھا گیا۔
انہوں نے اس بات اتفاق نہیں کیا کہ جنرل مشرف ضمانت مسترد ہونے کے بعد عدالت سے فرار ہوگئے ۔ ان کے بقول جنرل مشرف نے گرفتاری سے بچے ہیں اور یہ ان کا حق ہے تاکہ وہ ضمانت کے لیے سپریم کورٹ رجوع کرسکیں۔
ان کے بقول جنرل مشرف نے سپریم کورٹ جانے کے لیے کوئی راستہ تلاش کیا تو وہ غیر قانونی بات نہیں ہے۔
سید زاہد حسین بخاری کا یہ بھی کہنا ہے کہ عدالت کی طرف سے جنرل مشرف کی ضمانت مسترد ہونے کے بعد انہیں ان کے گھر نظر بند کرنا سابق فوجی صدر کو سہولت دینے کے برابر ہوگا۔ ان کے مطابق ’جنرل مشرف کی نظربندی کا مطلب ہوگا ان کو ایک محفوظ مقام پر بند کر دیا جائے اور نہ وہ عدالت جائیں اور ان کو کوئی گرفتار کر سکے۔‘







