کاغذات کی پڑتال جاری، فاٹا سے پہلی بار خاتون امیدوار میدان میں

پاکستان میں گیارہ مئی کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے انتخابی سرگرمیاں زور پکڑتی جا رہی ہیں اور انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال کا مرحلہ پیر سے شروع ہوگیا ہے۔
انتخابی شیڈول کے مطابق الیکشن کمیشن یکم اپریل سے سات اپریل تک کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کرے گا۔
الیکشن کمیشن کے ترجمان نے اے پی پی کو بتایا ہے کہ قومی اسمبلی کے 957 امیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال مکمل کر دی گئی ہے۔
کاغذات نامزدگی کو رد یا قبول کرنے کے بارے میں الیکشن کمیشن کے ریٹرننگ افسران کے فیصلوں کے خلاف اپیل دائر کرنے کی حتمی تاریخ دس اپریل مقرر کی گئی ہے۔
انتخابی ٹربیونل 17 اپریل تک ان اپیلوں پر فیصلہ کرے گا جبکہ امیدواروں کو 18 اپریل تک اپنے کاغذاتِ نامزدگی واپس لینے کی اجازت ہو گی۔
مکمل چھان بین کے بعد الیکشن کمیشن 19 اپریل کو انتخابی امیدواروں کی حتمی نظر ثانی شدہ فہرست شائع کرے گا جو 11 مئی کے انتخابات میں حصہ لیں گے۔
پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی نے الیکشن کمیشن کے ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ قومی اسمبلی کے لیے دو ہزار تیرہ امیدوارں سے کاغذاتِ نامزدگی وصول کیے گئے ہیں جبکہ صوبائی اسمبلیوں کے لیے چار ہزار انتیس امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ہیں۔
پاکستان کے شورش زدہ قبائلی علاقے جو ہمیشہ امن و امان کی ابتر صورتحال اور حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں پر خبروں میں رہتے ہیں وہاں سے اب پہلی بار ایک خاتون نے انتخاب میں حصہ لینے کا اعلان کر کے نئی تاریخ رقم کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
باجوڑ ایجنسی کی رہائشی بادام زری نے گیارہ مئی کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے قومی اسمبلی کی نشست این اے چوالیس سے آزاد امیدوار کے طور پر کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ہیں۔
یاد رہے کہ اتوار کی رات کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کی مقررہ مدت ختم ہو گئی تھی اور آخری دن ملک کے مختلف حصوں میں ریٹرننگ افسران کے دفاتر کے باہر امیدواروں کا اپنے حامیوں کے ساتھ رش دیکھنے میں آیا۔
کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کا وقت اتوار کو شام چار بجے تک تھا لیکن اسے بعد میں بڑھا کر رات بارہ بجے تک کر دیا گیا۔
مقامی میڈیا کے مطابق کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے والوں میں مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں محمد نواز شریف، تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور سابق فوجی صدر سربراہ ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف بھی شامل ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے 40 امیدواروں نے وفاقی دارالحکومت کے دو حلقوں کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ہیں۔

اتوار کو تحریک انصاف کے سربراہ نے وادی سوات میں، جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے لاہور کے منٹو پارک میں جلسہ عام سے خطاب کیا جبکہ جماعت اسلامی کے امیر منور حسن نے کراچی میں یوتھ کانفرس منعقد کی۔
خیال رہے کہ پاکستان میں عام انتخابات کے دوران امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور دہشت گردی کے واقعات کے روک تھام کو سب سے بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔
اسی تناظر میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے مینگورہ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی جماعت اقتدار میں آئی تو ملک میں امن و امان قائم کیا جائے گا اور لوگوں کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ قبائلی علاقوں کے مسائل بات چیت کے ذریعے حال کیے جا سکتے ہیں اور قبائلی عوام کو سیاسی طاقت بنائیں گے۔
جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی پنجاب کی سیاست میں قدم رکھتے ہوئے لاہور کے منٹو پارک یعنی مینارِ پاکستان میں ایک جلسے سے خطاب کیا۔انہوں نے اس موقع پر اپنی جماعت کے منشور کا اعلان کرتے ہوئے ملک کی خومختاری کی بات کی اور اس کے ساتھ کہا کہ وہ پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں۔
ادھر ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں جماعت اسلام کے امیر منور حسن نے نوجوانوں کے کنونشن سے خطاب میں کہا کہ وہ ملک میں بدعنوانی سے پاک معاشرہ چاہتے ہیں۔







