کراچی: ’دو تخریب کار گرفتار، دو فرار‘

پولیس
،تصویر کا کیپشنپولیس نے اتوار کو بھی کراچی سے کالعدم تنظیم لشکرِ جھنگوی کے چار ارکان کوگرفتار کرنے کا دعوٰی کیا تھا
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کراچی میں پولیس نے دو مبینہ تخریب کاروں کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے جن کی شناخت امجد ضمیر خٹک اور محمد عاصم سواتی کے نام سے کی گئی ہے۔

سی آئی ڈی پولیس کے ایس ایس پی فیاض خان کا کہنا ہے کہ ملزمان کو کراچی کے علاقے مشرف کالونی سے مقابلے کے بعد گرفتار کیا گیا ہے جبکہ ملزمان کے دو ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملزمان سے خودکش بم حملے میں استعمال ہونے والی ایک جیکٹ، دو ڈیٹونیٹر، دو دستی بم اور دو پستول برآمد ہوئے ہیں۔ پولیس نے ملزمان کا تعلق کالعدم شدت پسند تنظیم لشکر جھنگوی اور حرکت الجہاد اسلامی سے بتایا ہے۔

ایس ایس پی فیاض خان کے مطابق ملزمان نے ایک سیاسی جماعت کے رہنماؤں ، پولیس افسران، حساس ادارے کے دفاتر، امام بارگاہوں، اسماعیلی جماعت خانے، احمدی شخصیات اور ان کے مراکز پر حملے کرنے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔

پولیس کے مطابق ملزم عاصم سواتی میران شاہ سے تربیت یافتہ ہے اور اس نے دوران تفتیش وزیرستان اور میران شاہ میں سکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث ہونے کا بھی انکشاف کیا ہے۔

سی آئی ڈی پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے انکشاف کیا ہے کہ میران شاہ میں مطیع الرحمان عرف قاری ابراہیم جس کے سر کی قیمت حکومت نے ایک کروڑ روپے مقرر کی ہے ان کے نیٹ ورک کا سرغنہ ہے اور اسی نے ان لوگوں کو خودکش حملوں کے ٹارگٹ دے کر کراچی بھیجا ہے۔

یاد رہے کہ مطیع الرحمان عرف قاری ابراہیم امریکی صحافی ڈینئل پرل کے قتل کیس میں بھی مفرور ہے۔