لاہور: مشتبہ کار مکینک زیرِحراست

- مصنف, علی سلمان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے پولیس چیف نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سری لنکا کرکٹ ٹیم پر حملے کےسلسلے میں چند مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے کہا ہے کہ سری لنکا ٹیم کی سیکیورٹی کی ذمہ داری گورنر راج پر نہیں ڈالی جاسکتی۔
پولیس نے ملزموں کے موبائل فون کی کالوں کے ذریعے چند مشتبہ افراد کو حراست میں لیا اور اس کارمکینک کو بھی شام تفتیش کیا گیا جس سے مبینہ طور پر ملزموں نے اپنی کار مرمت کرائی تھی۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ جھنگ، رحیم یارخان، فیصل آباد اور لاہور کے سرحدی علاقوں سے بعض گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔ حراست میں لیے جانے والوں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ان میں ایک کالعدم مذہبی تنظیم کے اراکین بھی شامل ہیں۔
انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس خواجہ خالد فاروق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ پولیس نے چند مشتبہ افراد کو پکڑ لیا ہے لیکن انہوں نے ان کے بارے میں مزید تفصیلات بتانے سے انکار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے تفتیش اور کیس خراب ہونے کا خطرہ ہے لیکن انہوں نے کہا کہ پولیس کی تفتیش ختم اس وقت ہی ہوگی جب تمام اصل ملزم پکڑے جائیں گے اور ابھی ایسا نہیں ہوا۔
پنجاب پولیس کے سربراہ نے بتایا کہ گورنر کے حکم پر اس بات کی تفتیش کی جارہی ہے کہ سیکیورٹی میں کہاں خامی رہ گئی تھی۔ مقامی ٹیلی ویژن پر ایک انٹرویو میں کمشنر لاہور خسرو پرویز نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ سیکیورٹی کے منصوبے میں کچھ خامیاں تھیں جو حکومت کو تسلیم کرنا چاہیں۔ کمشنر لاہور کا شمار ان افسروں میں ہوتا ہے جو شہباز شریف دور میں تعینات ہوئے تھے۔
گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملہ ہوا اس وقت صوبے میں شہباز شریف دور کے پولیس افسر تعینات تھے اور سیکیورٹی کے اسی منصوبے پر عمل کیا گیا جو شہباز شریف دور میں بنا تھا اس لیے اس میں اگر کوئی خامی رہ گئی تو اس کی ذمہ گورنر پنجاب پر نہیں ڈالی جا سکتی۔
انہوں نے کہا صرف لاہور کے پولیس سربراہ کو تبدیل کیا گیا تھا جبکہ آئی جی پنجاب شوکت جاوید نے خود ذمہ داری نبھانے سے انکار کیا۔انہوں نے کہا کہ سیکرٹری داخلہ سے لیکر نیچے تک باقی تمام افسر پرانے تھے اور سیکیورٹی کے لیے انہی کے منصوبے پر عمل درآمد کیا گیا۔
انہوں نے شریف بردران کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ وہی زبان بول رہے ہیں جو انڈیا میں پاکستان کے خلاف بولی جا رہی ہے۔ گورنر نے کہا کہ سابق وزیر اعلی شہباز شریف نے سی آئی ڈی کی رپورٹ فوری طور پر میڈیا کو تو دکھا دی لیکن حکام کو اس کےبارے میں نہیں بتایا۔ اس رپورٹ میں حکومت پنجاب کو کرکٹ ٹیم پر حملے کے خدشہ سے ہوشیار کیا گیا تھا۔ گورنر پنجاب نے جمعرات کو سی آئی ڈی کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی ملک اقبال کو ان کے عہدے سے ہٹا کر افسر بکار خاص بنا دیا ہے جبکہ ٹریفک پولیس کے انچارج ڈی آئی جی غالب بندیشہ کو تبدیل کرکے دوسرے محکمہ میں بھجوادیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی درجن بھر دیگر پولیس افسروں کے تبادلے کیے گئے ہیں۔

پاکستان کے ٹی وی چینلز پر بار بار ایک فٹیج دکھائی جارہی ہے جس میں ملزموں کو فائرنگ کے بعد اطمینان سے پیدل چلتے ہوئے اور موٹر سائیکلوں پر فرار ہوتے دکھایا جا رہا ہے اس موقع پر پولیس کی گاڑیاں بھی دکھائی گئیں جو ملزموں کے قریب سے گذر گئیں۔گورنر پنجاب نے کہا کہ اس فٹیج کو بنیاد بنا کر ان کی حکومت کو بلا جواز تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا حقیقت یہ ہے کہ ان ملزموں کی گرفتاری کرکٹ ٹیم کے سیکیورٹی پر تعینات اہلکاروں کی نہیں تھی گورنر کے بقول ان ذمہ داری صرف اتنی تھی کہ وہ سری لنکا ٹیم کو بچائیں جو انہوں نے بخوبی سرانجام دیں۔
گورنر پنجاب نے کہا کہ اس بات کی تحقیقات ہو رہی ہیں کہ سیکیورٹی منصوبے میں کہا کمی رہ گئی البتہ انہوں نے کرکٹ ٹیم کو بلٹ پروف گاڑیاں فراہم کرنا ممکن نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹ بورڈ کے پاس دو ہی بڑی کوچیں جن پر دونوں ٹیمیں کو لے جایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہ تو ہمارے پاس بڑی کوچیں اور نہ ہی ہمارے پاس اتنی جگہ ہے کہ زیادہ کوچوں کو چلایا جاسکے۔
گورنر پنجاب نے کہا کہ سیکیورٹی میں خامی کےبارے میں تحقیقاتی رپورٹ کل انہیں مل جائے گی جو میڈیاکے ذریعے عوام کے سامنے پیش کردی جائے گی۔
گورنر سلمان تاثیر نے کہا کہ کل وہ ان پولیس اہلکاروں کے اعزاز میں تقریب کر رہے ہیں جنہوں نے اپنی جان پر کھیل کر سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کو بچایا۔ آئی جی پنجاب پولیس خواجہ فاروق نے لبرٹی چوک پر پولیس اہلکاروں کی جائے ہلاکت کا دورہ کیا، پھول چڑھائے اور گارڈ آف آنر پیش کیا۔



