کراچی پر خوف کے سائے

بارہ مئی کے موقع پر کراچی میں اضافی سکیورٹی کا انتظام کیا گیا ہے
،تصویر کا کیپشنبارہ مئی کے موقع پر کراچی میں اضافی سکیورٹی کا انتظام کیا گیا ہے
    • مصنف, بیورو رپورٹ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں منگل یعنی بارہ مئی کے آمد سے قبل ہی سیاسی فضا کشیدہ دکھائی دے رہی تھی۔ کسی بھی پریشانی سے بچنے کی خاطر حکومت نے عام تعطیل کا اعلان کر دیا تھا لیکن بارہ مئی کے سلسے میں کئی خدشات جنم لینے لگے تھے۔

دوسال پہلے بارہ مئی کے روز معزول چیف جسٹس کی آمد کے موقع پر فسادات پھوٹ پڑے تھے جس میں چالیس سے زیادہ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ عام لوگوں کے خیال میں شہر بظاہر تو پُرسکون ہے لیکن سمندر کا سکوت کسی طوفان کا پیش خیمہ ہوسکتا ہے۔

بارہ مئی کی آمد پر کراچی شہر میں خوف کے بادل چھائے ہوئے ہیں اور ایسے علاقے جہاں اردو بولنے والوں کی اکثریت ہے مثلاً فیڈرل بی ایریا، گلبہار، ناظم آباد، نیوکراچی، لیاقت آباد، پی آئی بی کالونی، وغیرہ وہاں پشتو بولنے والوں کی دکانیں بند ہیں اور پشتو بولنے والے نظر نہیں آرہے ہیں۔ جبکہ یہ ہی حال پشتو بولنے والے علاقوں میں ہے جن میں بنارس کالونی، پٹھان کالونی، قائدآباد، سہراب گوٹھ، شیریں جناح کالونی، وغیرہ شامل ہیں۔ یہاں زبان زدِ عام بس یہ ہی جملہ ہے ’خدایا خیر!‘

اس سال بارہ مئی سے پہلے اے این پی اور پھر ایم کیو ایم نے ہڑتال کی کال دی تھی جس سے شہریوں میں بے چینی اور غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی تھی اور حکومت کو بالآخر بارہ مئی کو عام تعطیل کا اعلان کرنا پڑا۔ تنقید نگاروں نے یہاں تک کہہ دیا کہ حکومت نے اپنے حلیفوں کے ناجائز مطالبات کے آگے گھٹنے ٹیک دیے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کی صوبے میں کوئی رِٹ نہیں ہے۔

حکومت کی جانب سے عام تعطیل کے اعلان کے بعد اس کی دونوں حلیف جماعتوں نے ہڑتال کی کال واپس لے لی لیکن صوبائی حکومت نے پھر بھی حفظِ ماتقدم کے طور پر بارہ مئی کو پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ امن و امان کے قیام کو یقینی بنایا جاسکے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت نے بے یقینی نے صورتحال کو سنبھالنے کے بجائے مزید الجھادیا ہے کیونکہ عام آدمی اس صورتحال سے یہ تاثر لینے پر مجبور ہے کہ حکومت سمیت دونوں متحرب جماعتیں یعنی اے این پی اور ایم کیو ایم ممکنہ لسانی فسادات کو ختم کرنے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔

تاہم ایم کیو ایم یہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں کہ یہ لسانی فسادات ہیں۔ ایم کیو ایم کا دعوٰی ہے کہ کراچی میں طالبان نہ صرف موجود ہیں بلکہ ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ دوسری جانب اے این پی اپنی حریف جماعت کے دعوے کو مسترد کرتی ہے۔ اے این پی کا دعوٰی ہے کہ ایم کیو ایم طالبان کی آڑ میں پشتو بولنے والوں کے خلاف کارروائی کرنا چاہتی ہے۔

اگرچہ ایم کیو ایم کی قیادت نے بارہا باور کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان کی لڑائی پشتو بولنے والوں سے نہیں بلکہ طالبان کے خلاف ہے۔

ایم کیو ایم کی جانب سے کراچی میں طالبان کی موجودگی کا مسلسل دعوٰی کیا جارہا ہے۔ تاہم عام تاثر یہ ہے کہ حال ہی میں یعنی تیس اپریل کو نیو کراچی میں پھوٹنے والے فسادات بظاہر لسانی بنیادوں پر تھے جس میں بتیس افراد ہلاک ہوئے جبکہ پورا شہر کشیدگی اور خوف کی لپیٹ میں رہا۔

حکمراں جماعت پاکستان پپلزپارٹی نے اپنی دونوں حلیف جماعتوں یعنی اے این پی اور ایم کیو ایم کو مذاکرات کی میز پر بلایا اور فسادات کو ختم کرنے کی حکمت عملی طے کی جس کے بعد خون خرابہ تو رک گیا لیکن کشیدگی کسی طور بہرحال برقرار رہی۔

چیف جسٹس آف پاکستان
،تصویر کا کیپشندو برس قبل جسٹس افتخار چوہدری کی کراچی آمد کے موقع پر ہنگامہ آرائی میں چالس سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے

ان مذاکرات کے بعد حکومت کے ساتھ مشترکہ اعلامیے میں دونوں جماعتوں یعنی ایم کیو ایم اور اے این پی نے حالیہ فسادات کو لسانیت کا رنگ دینے کے بجائے اسے لینڈ مافیا اور جرائم پیشہ افراد یا گروہوں کی جانب سے سازش قرار دیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان عناصر کے خلاف آپریشن کیا جائے اور غیرقانونی اسلحہ سے معاشرے کو پاک کیا جائے۔

ایم کیو ایم کے اس دعوٰی کے بعد کہ لینڈ مافیا اور جرائم پیشہ افراد امن خراب کرنے کے درپے ہیں، عام آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ کیا لینڈ مافیا اور جرائم پیشہ افراد اتنے منظم ہوچکے ہیں کہ ایم کیو ایم ان کے آگے مجبور اور بے کس ہوچکی ہے؟

اس تمام صورتحال میں دلچسپ بات یہ ہے کہ اردو اور پشتو بولنے والے عام افراد ایک دوسرے سے نہ خائف ہیں اور نہ ہی ایک دوسرے کی جان کے درپے ہیں۔ تاہم وہ بخوبی سمجھتے ہیں کہ مسلح افراد جو کسی جماعت یا منظم گروہ سے تعلق رکھتے ہیں اپنے مذموم مقاصد کے لئے دونوں جانب کے لوگوں کو قتل کرنے کے بعد حالات خراب کرنا چاہتے ہیں۔

یہاں ایک بات غور طلب یہ ہے کہ ایم کیو ایم کی جانب سے کراچی میں طالبانائزیشن کا دعوٰی کیوں کیا جارہا ہے اور اس سے ایم کیو ایم کو کیا فائدہ ہوسکتا ہے۔ اسے سمجھنے کے لئے زیادہ دور نہیں، ماضی قریب میں جانا پڑے گا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ عام انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے کراچی سے دو صوبائی نشستوں کا حصول ایم کیو ایم کے لئے غیر متوقع تھا۔

ایم کیو ایم کے اندرونی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر پشتو بولنے والوں کی کراچی آمد کی رفتار میں اضافہ ہوتا رہا، جیسا کہ قبائلی علاقوں میں شدت پسندی کے خلاف جنگ میں ہزاروں افراد بے گھر ہورہے ہیں، اگر ان کی اکثریت بھی کراچی آتی ہے تو کراچی میں پشتو بولنے والے اکثریت میں ہوجائیں گے جسے ایم کیو ایم کبھی برداشت نہیں کرسکتی۔

عام تاثر یہ ہے کہ پشتو بولنے والوں کی آمد کو روکنے اور یہاں رہنے والوں کو یہاں سے جانے پر مجبور کرنے کے لئے ایم کیو ایم نے کراچی میں طالبان کی موجودگی کا دعوٰی کیا جسے اس کی اپنی ہی حلیف حکمراں جماعت پاکستان پپلزپارٹی نے رد کردیا۔ طالبان کی موجودگی کے نام پر ایم کیو ایم نے اپنے کارکنوں سے کہا کہ وہ صف بندی کرلیں اور اپنی حفاظت کے لئے لائسنس یافتہ اسلحہ خریدیں۔

ایم کیو ایم کی جانب سے اس بیان کے بعد ایم کیو ایم اور اے این پی میں کشیدگی بڑھنے لگی اور گزشتہ سال دسمبر یعنی بقرعید کے موقع پر کراچی شہر میں کشیدگی نے زور پکڑا۔ ارود بولنے والے علاقوں میں پشتو بولنے والوں کے قہوہ خانے، موچی، اور ٹھیلوں پر کام کرنے والے مزدوروں کو ڈرا دھمکا کر بھگا دیا گیا اور اسی طرح ایسے علاقوں میں جہاں پشتو بولنے والوں کی اکثریت ہے وہاں سے اردو بولنے والوں کو نکلنے پر مجبور کیا گیا۔

کراچی میں لسانی فسادات کی تاریخ پرانی ہے۔ یہاں پہلی مرتبہ لسانی یا زبان کی بنیاد پر فسادات اردو اور سندھی بولنے والوں کے مابین ستر کی دہائی کے اوائل میں ہوئے تھے۔ ان فسادات کا محور لیاقت آباد کا علاقہ تھا جسے عرفِ عام میں لالوکھیت کہا جاتا ہے۔

زبان کی بنیاد پر یہ پہلے فسادات تھے جس میں کئی افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ اس کے بعد سن انیس سو پچاسی میں بشریٰ زیدی کیس ہوا۔ کالج کی طالبہ بشریٰ زیدی ناظم آباد میں ٹریفک حادثے میں ہلاک ہوگئی اور یہ کیس ایک مرتبہ پھر کراچی میں لسانی فسادات کا سبب بنا لیکن اس بار یہ فسادات ارود بولنے والوں اور ٹرانسپورٹ کا کاروبار کرنے والے پشتونوں کے درمیان ہوئے۔ اس طرح اسّی کی دہائی کے آخر میں کراچی نے ایک بار پھر اردو اور پشتو بولنے والوں کے درمیان بدترین لسانی فسادات دیکھے۔