مناواں حملہ، رات بھر چھاپے، پچاس گرفتار

مناواں حملہ
،تصویر کا کیپشنلاھور کی پولیس قبائلی علاقے میں جاکر چھاپے نہیں مار سکتی۔ ایسا کرنے کے لیے وہاں کے مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ رابطے کیے جا رہے ہیں: پنجاب پولیس
    • مصنف, آصف فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد

گزشتہ روز لاہور میں پولیس کے تربیتی مرکز پر دہشت گرد حملے کے بعد گرفتار ہونے والے مشتبہ شخص سے ملنے والی معلومات کی بنیاد پر لاہور پولیس نے شہر میں چھاپے مارے ہیں اور پچاس افراد کو حراست میں لیا ہے۔

یہ بات پنجاب کے پولیس سربراہ خواجہ خالد فاروق نے منگل کی صبح مناواں حملے میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں کو بتائی۔ان کا کہنا تھا کہ یہ چھاپے پیر اور منگل کی درمیانی شب مارے گئے اور شک کی بنیاد پر مختلف افراد کو حراست میں لیا گیا۔

انسپکٹر جنرل آف پولیس کا کہنا تھا کے مناواں کے ٹریننگ سینٹر سے حراست میں لیے گئے افراد میں سے ایک کا حملہ آور ہونا ثابت ہو گیا ہے۔ ’اس شخص نے دوران تفتیش بہت اہم اور درست معلومات فراہم کی ہیں جن کی بنیاد پر اس حملے کے منصوبہ سازوں تک پہنچنے میں بہت مدد ملے گی‘۔

آئی جی پولیس نے بتایا کہ ملزم کی نشاندہی پر لاھور پولیس نےجن مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے ان سے تفتیش کی جارہی ہے۔ ’ان لوگوں نے بعض مفید معلومات فراہم کی ہیں جس کی وجہ سے ہماری تفتیش بہت مثبت انداز میں اور درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے‘۔

خواجہ خالد فاروق نے عندیہ دیا کہ اس حملے کے تانے بانے صوبہ سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقوں سے مل رہے ہیں۔ ’اس حملے کی تفتیش کے سلسلے میں مختلف ایجنسیوں اور مختلف علاقوں کی پولیس میں بھرپور تعاون ہے۔ یہ تعاون اس سانحے کی تفتیش کے لیے بہت ضروری ہے کیونکہ لاھور کی پولیس قبائلی علاقے میں جاکر چھاپے نہیں مار سکتی۔ ایسا کرنے کے لیے وہاں کے مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ رابطے کیے جا رہے ہیں‘۔

گورنر تاثیر نے کہا کہ نہتے پولیس اہلکاروں نے حملہ آوروں کے مقابلے میں جس بہادری کا مظاہرہ کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔

سلمان تاثیر نے مشیر داخلہ رحمٰن ملک کے اس بیان کے حوالے سے سوال پر کہ وفاقی حکومت نے ستائیس مارچ کو اس قسم کے ممکنہ حملوں کے بارے میں تنبیہ جاری کی تھی کہا کہ انکی حکومت کو اس طرح کی کوئی وارننگ موصول نہیں ہوئی۔