کراچی: پانچ تخریب کار گرفتار

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی میں پولیس نے تخریب کاری کی منصوبہ بندی میں ملوث پانچ ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا تعلق کالعدم شدت پسند تنظیم لشکر جھنگوی سے ہے۔
کراچی شہری پولیس کے سربراہ وسیم احمد نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ’پانچوں ملزمان کو تین کلاشنکوف، چار دستی بم، دھماکہ خیز مادہ اور کیمیکلز کے ساتھ گرفتار کیا گیا ہے۔ ملزمان میں محمد اکبر، سرفراز، فرید احمد، فیصل شیخ اور در محمد بلوچ شامل ہیں جن کا تعلق کالعدم شدت پسند تنظیم لشکر جھنگوی سے ہے۔‘
ان کے مطابق یہ گرفتاریاں سہراب گوٹھ کے علاقے سپر مارکیٹ میں کی گئی ہیں۔ ملزمان وزیراعلیٰ ہاؤس، پولیس کے مرکزی دفتر، سی آئی ڈی، حساس اداروں کے دفاتر اور کچھ امام بارگاہوں کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔
سی سی پی او کراچی کا دعویٰ تھا کہ ملزمان نے دوران تفتیش بتایا ہے کہ وہ وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز اور نیٹو کی سپلائی پر حملوں میں ملوث رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس بات کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ کراچی میں خودکش بمبار موجود ہیں۔ پولیس کی کارروائیاں ثابت کرتی ہیں کہ وہ یہاں موجود ہیں مگر یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ ان کی تعداد کتنی ہے۔ وسیم احمد نے بتایا کہ پولیس کسی بھی تخریب کاری سے نمٹنے کے لیے چوکنا ہے۔گزشتہ پندرہ دنوں میں چار پولیس اہلکاروں نے اپنی جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔
تخریب کاری کے واقعات سے نمٹنے کے لیے ایک ہزار اہلکاروں پر مشتمل ایک خصوصی فورس تشکیل دی جارہی ہے، جنہیں خصوصی تربیت فراہم کی جائےگی۔ فورس میں شامل اہلکاروں کی عمر پچیس سے تیس سال تک ہوگی۔
گزشتہ روز آئی جی سندھ صلاح الدین بابر خٹک کی جانب سےجاری کیے گئے ایک اعلامیے میں بتایا گیا تھا کہ کچھ عناصر سندھ اور خصوصًا کراچی میں امن امان کی صورتحال کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے تمام پولیس افسران کو مساجد، امام بارگاہوں، گرجا گھروں پر سیکیورٹی کے انتظامات کرنے اور آنے جانے والے لوگوں پر نظر رکھنے کی ہدایت کی ہے۔



