شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس: کیا شہباز شریف اور نریندر مودی کا آمنا سامنا ہو سکتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہKAGENMI/GETTY IMAGES
- مصنف, زبیر اعظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
جمعرات کو سمر قند میں شنگھائی تعاون تنظیم کی کونسل برائے سربراہان مملکت کے 22ویں اجلاس میں ایسے کئی ممالک کے سربراہان موجود ہوں گے جن کے درمیان تنازعات کی تازہ تاریخ ہے۔
ایک جانب روس کے صدر ولادیمیر پوتن ہوں گے جن کو یوکرین پر حملے کے بعد سے عالمی تنقید کا سامنا ہے تو دوسری جانب چین کے صدر شی جن پنگ، جو حال ہی میں تائیوان تنازعے کی وجہ سے خبروں کی زینت بنے رہے اور طویل عرصے بعد کسی غیر ملکی دورے پر جائیں گے۔
وہیں انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی بھی موجود ہوں گے جو چین کے ساتھ گلوان تنازعے کے بعد پہلی بار صدر شی جن پنگ کا سامنا کر سکتے ہیں۔
آزربائیجان اور آرمینیا، جن کے درمیان جنگ جاری ہے، کی نمائندگی بھی ہو گی۔
تاہم پاکستان اور انڈیا کے درمیان تعلقات کی حالیہ تاریخ کے تناظر میں وزیر اعظم شہباز شریف اور انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کا ایک تقریب میں اکھٹا ہونا بھی کافی اہمیت کا حامل ہے اور دونوں کے درمیان غیر رسمی ملاقات کا امکان اپنی جگہ موجود ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے کسی باضابطہ ملاقات کے امکان کو رد کیے جانے کے باوجود اس موقع کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تاہم دونوں رہنماوں کے درمیان ممکنہ ملاقات یا مصافحہ، کیا مشرف واجپائی مصافحے جیسی اہمیت کا حامل ہو گا یا پھر عمران خان اور نریندر مودی کی غیر رسمی ملاقات جیسا جو سلام دعا سے آگے نہیں بڑھ سکی، یہ دیکھنا باقی ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف دو روزہ دورے پر ازبکستان پہنچے ہیں جہاں وہ سمر قندمیں ہونیوالے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ملکوں کے سربراہان مملکت کی کونسل کے سالانہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔
اس اجلاس میں آٹھ رکن ممالک، جن میں چین، روس، انڈیا، پاکستان، ازبکستان، کرغزستان، تاجکستان اور قازقستان شامل ہیں، کے علاوہ ترکی، آزربائیجان، آرمینیا اور ترکمانستان بطور مہمان ممالک اور بیلاروس، ایران اور منگولیا بطور آبزرور ملک شامل ہوں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان اور انڈیا سنہ 2017 میں ایس سی او کے مستقل رکن بنے تھے
حکومت پاکستان کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف اس اجلاس کے دوران دیگر رکن ممالک کے سربراہان سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے تاہم دفتر خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار نے ڈان اخبار سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی سے کوئی ملاقات طے نہیں۔
اس کے باوجود دو روزہ اجلاس کے دوران دونوں سربراہان کے درمیان غیر رسمی ملاقات کو خارج الامکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اس سے قبل سنہ 2019 میں شنگھائی تعاون تنظیم سمٹ کے دوران اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان مصافحہ اور ہلکی پھلکی گپ شپ ہوئی تھی۔
یہ پہلا موقع تھا کہ اسی سال بالاکوٹ حملے کے بعد دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم غیر رسمی طور پر ملے تھے۔

،تصویر کا ذریعہMEA/INDIA
پاکستان اور انڈیا: سرد مہری میں کمی؟
2019 میں دونوں ملک جنگ کے دہانے پر کھڑے تھے۔ پلوامہ حملے کے بعد فروری 2019 میں انڈیا نے پاکستان میں بالا کوٹ پر فضائی حملہ کیا تو اگلے ہی دن پاکستانی فضائیہ نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر پر جوابی کارروائی کی جس کے دوران انڈین فضائیہ کا ایک طیارہ مار گرایا گیا۔
چند مہینوں بعد، اُسی سال یعنی پانچ اگست 2019 کو انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کر دیا اور کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا۔ اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات مزید تلخ ہوتے گئے۔
اسی سال مارچ کے وسط میں پاکستان آرمی کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے 'پُرامن طریقے' سے ماضی کے تنازعات کو دفن کر کے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی بات کی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس کے فوراً بعد پاکستان نے انڈیا پر سے کپاس اور چینی کی درآمد پر لگی ہوئی پابندی ختم کرنے کا اعلان کیا (اس اعلان کو بعد میں واپس لے لیا گیا)۔ اس کے بعد جب پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تو انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے انھیں جلد صحتیابی کا پیغام بھیجا۔
ایسے میں یہ خبریں بھی گردش کرتی رہیں کہ متحدہ عرب امارات دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی کوشش کر رہا ہے تاہم اس کوشش سے زیادہ نتائج سامنے نہیں آ سکے اور 2022 میں وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کے خاتمے پر شہباز شریف وزیر اعظم بن گئے۔
یہ بھی پڑھیے
شہباز شریف کی وزارت عظمیٰ اور تعلقات میں بہتری کی توقعات
انڈین وزیراعظم نریندر مودی کے شریف خاندان، خاص طور پر نواز شریف کے ساتھ تعلقات کو دیکھتے ہوئے اکثر مبصرین کو توقع ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے آنے سے انڈیا اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں سرد مہری ختم ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ دسمبر 2015 میں وزیراعظم مودی افغانستان سے لوٹتے ہوئے اچانک لاہور پہنچے تھے جہاں انھوں نے اُس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کی نواسی کی شادی کی تقریب میں شرکت بھی کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنہ 2020 میں برطانیہ میں نواز شریف کی والدہ کی وفات پر مودی کی طرف سے انھیں خط لکھا گیا جس میں انڈین وزیراعظم نے تعزیت کرتے ہوئے نواز شریف کی والدہ کے ساتھ لاہور میں ہوئی ملاقات کا ذکر کیا تھا۔
یاد رہے کہ میاں نواز شریف پاکستان کے پہلے وزیراعظم ہیں جو ہمسایہ ملک انڈیا کے کسی وزیراعظم کی تقریبِ حلف برداری میں شریک ہوئے تھے۔
انڈیا کے اس وقت کے نومنتخب وزیراعظم مودی نے ان کا گرمجوشی سے استقبال کیا تھا اور ان سے خصوصی ملاقات کے موقع پر نواز شریف نے تعلقات وہیں سے دوبارہ شروع کرنے کی بات کی تھی جہاں انھوں نے 1999 میں اپنے گذشتہ دورِ حکومت کے اختتام پر چھوڑے تھے۔
مودی نے اپنے پاکستانی ہم منصب نواز شریف کی والدہ کے لیے ایک شال بھیجی تھی۔ جس کے بعد پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف نے اپنے انڈین ہم منصب نریندر مودی کی والدہ کے لیے ایک ساڑھی بھیجی تھی۔
اس پس منظر میں وزیراعظم مودی کی وہ ٹویٹ بھی نہایت اہم ہے جس میں انھوں نے شہباز شریف کے وزیراعظم بننے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’انڈیا خطے میں دہشتگردی سے پاک ماحول اور امن و استحکام چاہتا ہے تاکہ ہم (انڈیا اور پاکستان) تعمیر و ترقی کے اہداف پر توجہ مرکوز کر سکیں اور اپنے لوگوں کی خوشحالی کو یقینی بنا سکے۔
حال ہی میں پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں پر انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے ہمدردی کا پیغام بھی آیا۔
’حالات اتنے خراب ہیں کہ چھوٹی سی بات بھی بڑی لگے گی‘
سنیٹر مشاہد حسین سید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک اہم کانفرنس ہے کیونکہ پاکستان اور انڈیا کے وزرائے اعظم ایک کمرے میں ہوں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’انڈیا کا پاکستان کی جانب بنیادی رویہ تو تبدیل نہیں ہوا تاہم اس اجلاس میں غیر رسمی ملاقات کے مواقع موجود ہوں گے جس سے برف پگھل سکتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ باضابطہ ملاقات طے نہ ہونے کی صورت میں غیر رسمی ملاقات کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں بلکہ خواہش ضروری ہوتی ہے۔
’ہو سکتا ہے کہ دونوں اکھٹے چائے پینے چلے جائیں۔ یہ کوئی سٹیڈیم تو نہیں ہوتا، صرف آٹھ دس لیڈر موجود ہوتے ہیں، میزبان ازبکستان کے صدر بھی دونوں کو ملوا سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے چین کے صدر شی جن پنگ اور روسی صدر پوتن گپ شپ کر رہے ہوں اور وزیر اعظم مودی اور وزیر اعظم شہباز شریف بھی اس گفتگو میں شامل ہو جائیں۔‘
پاکستان اور انڈیا کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ایک بیک چینل تو چلتا رہتا ہے، وہ سفارتی ہو یا عسکری، جس میں پیغام رسانی ہوتی ہے۔‘
گذشتہ سال ایک اہم پیشرفت کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سیز فائر کا آغاز انڈیا کی جانب سے ہوا اور اس کا اطلاق کامیابی سے ہو رہا ہے جس کا مطلب ہے کہ دونوں افواج کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتیں۔
تاہم کیا موجودہ سیاسی تناظر میں کسی ممکنہ ملاقات میں کتنی پیشرفت ہو سکتی ہے؟
اس پر مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ ’دو طرفہ تعلقات کا ایک سیاسی پہلو بھی ہے۔ انڈیا میں پاکستان انتخابی ایشو ہے۔ 2024 میں الیکشن ہونا ہے اور پارٹیوں کو ایک خوف رہتا ہے کہ کسی مخصوص حد سے آگے نہ جایا جائے تاکہ ان کے سیاسی مخالفین کو زیادہ موقع نہ ملے تنقید کا۔‘
’پاکستان میں موجودہ سیاسی صورتحال میں کشیدگی ہے جس کی بنیاد داخلی سیاست ہے، انڈیا فیکٹر نہیں، اس لیے انڈیا سے تعلقات معمول پر لانا ہمارے لیے مشکل ہو گا۔‘
تاہم وہ کہتے ہیں کہ ’تعلقات اتنے خراب ہیں کہ کوئی چھوٹی سی بات بھی بڑی لگ سکتی ہے۔ اگر انڈیا کوئی قدم اٹھاتا ہے، مثلا وہ سارک کا ویٹو لفٹ کرتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ اسلام آباد سارک کانفرنس کرواتا ہے تو ہم آئیں گے تو ماحول تبدیل ہو سکتا ہے۔‘










