آرمی چیف کی تعیناتی اور عمران خان کی تجویز: کیا جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایک اور ایکسٹینشن مل سکتی ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, زبیر اعظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں آرمی چیف کی تعیناتی کا معاملہ گذشتہ سال سے ہی خبروں، تجزیوں اور بحث کا حصہ بنا رہا لیکن گذشتہ رات سابق وزیر اعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے عام انتخابات کے بعد نئے آرمی چیف کی تعیناتی کی تجویز نے ایک سیاسی اور قانونی بحث سمیت نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔
عمران خان نے پاکستان کے نجی ٹی وی چینل ’دنیا نیوز‘ کے اینکر کامران خان کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی عام انتخابات کے بعد نئی منتخب حکومت کو کرنی چاہیے اور تب تک کے لیے قانون میں کوئی گنجائش نکالی جا سکتی ہے۔
عمران خان نے براہ راست یہ نہیں کہا کہ وہ موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے خواہش مند ہیں لیکن سوشل میڈیا پر ان کی اس تجویز سے بہرحال یہی نتیجہ اخذ کیا جا رہا ہے۔
ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ آیا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو قانونی طور پر ایک اور توسیع مل سکتی ہے یا نہیں اور اس پر حکومت کا موقف کیا ہے؟
وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس انٹرویو پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’موجودہ حکومت اس ذمہ داری کو مقررہ وقت پر آئین اور ادارے کی بہترین روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گی، اہم قومی فیصلے سیاسی مفادات سے مشروط نہیں ہوتے۔‘
اس حکومتی رائے کے بعد اب یہ سوال بھی سر اٹھا رہا ہے کہ کہ کیا عمران خان کی یہ تجویز ایک سوچا سمجھا بیان تھا؟
یہ سوالات اس تناظر میں بھی اہم ہیں کہ تحریک انصاف کے چیئرمین بلاواسطہ اسٹیبلشمنٹ پر اپنی حکومت گرائے جانے کے بعد سے تنقید کرتے رہے ہیں۔
ان سوالات کے جوابات جاننے سے قبل یہ جاننا ضروری ہے کہ عمران خان نے اس انٹرویو میں دراصل کیا کہا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عمران خان نے انٹرویو میں کیا کہا؟
نجی ٹی وی چینل کو دیے جانے والے انٹرویو میں جب اینکر نے سوال کیا کہ ’آپ نے پہلے کہا کہ موجودہ حکومت ہی آرمی چیف کی تعیناتی کرے گی لیکن اس کے بعد آپ نے ایک متنازع بیان دیا، لیکن اب تو معاملہ سیٹل ہے کہ حکومت ہی تعیناتی کرے گی۔‘
اس سوال پر عمران خان نے کہا کہ ’میں نے کہا تھا کہ آرمی چیف کی پوزیشن بہت اہم ہے، میرٹ پر ہونی چاہیے۔ لیکن میں نے ساتھ کہا کہ آصف زرداری میرٹ کے لیے کوالیفائیڈ نہیں، اور نہ نواز شریف کوالیفائیڈ ہے۔ اگر یہ صاف اور شفاف الیکشن جیت کر حکومت میں آتے ہیں تو پھر اپنا چیف اپوائنٹ کر لیں۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
اس جواب پر اینکر کامران خان نے سوال کیا کہ الیکشن تو 90 دن بعد ہوں گے؟ پھر ایسے میں کیا کیا جائے؟ جس دن جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ ہو تو اس دن کیا ہو؟
عمران خان نے جواب دیا کہ ’اس کی گنجائش نکل سکتی ہے۔ یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ ملک کی بہتری کے لیے اگر اس کی پرووژن نکل سکتی ہے، وکیلوں نے مجھے بتایا ہے کہ اس کی پرووژن نکل سکتی ہے کہ جب الیکٹڈ حکومت آئے وہ فیصلہ کرے۔‘
اینکر نے پھر سوال کیا کہ اس وقت تک کے لیے جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دے دی جائے جب تک الیکشن نہیں ہوتے؟
عمران خان نے جواب دیا کہ ’میں نے اس پر کوئی تفصیل میں نہیں سوچا۔ وکیل کیا کہتے ہیں، آئینی ماہرین کیا کہتے ہیں، میں نہیں جانتا لیکن میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ ملک غیر معمولی حالات سے گزر رہا ہے۔‘
عمران خان کی جانب سے یہ بیان ان کے اس حالیہ بیان سے جڑا ہے جب فیصل آباد میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے نومبر میں آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق انھوں نے کہا کہ ’آصف زرادری اور نواز شریف نومبر میں اپنا فیورٹ آرمی چیف لے کر آنا چاہتے ہیں۔‘
’یہ ڈرتے ہیں کہ یہاں کوئی تگڑا آرمی چیف آ گیا، ایک محب وطن آرمی چیف آ گیا تو پوچھے گا ان سے تو اس ڈر سے یہ دونوں مل کر اپنا آرمی چیف مقرر کریں گے۔‘
اگلے روز اس بیان کے ردِ عمل میں آئی ایس پی آر کی جانب سے بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ پاکستان آرمی میں فیصل آباد میں ایک سیاسی جلسے کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے 'پاک فوج کی سینیئر قیادت کے بارے میں ہتک آمیز اور غیر ضروری بیان پر شدید غم و غصہ ہے۔'
واضح رہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے 14 اپریل 2022 کو ایک پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں یہ بیان دیا تھا کہ ’چیف آف آرمی سٹاف نہ تو توسیع کے خواہش مند ہیں اور نہ ہی وہ اس کو قبول کریں گے، چاہے کچھ بھی ہو جائے۔ وہ 29 نومبر 2022 کو ریٹائر ہو جائیں گے۔‘
’اس معاملے کو متنازع نہ بنایا جائے‘

تاہم وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے گذشتہ رات نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے میزبان شاہ زیب خانزادہ سے بات کرتے ہوئے عمران خان کے بیان اور آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر کہا کہ ’یہ قبل از وقت ہے۔ ابھی ڈھائی ماہ باقی ہیں۔ اس وقت اس ایشو کو کھولنا نہ پاکستان کے لیے بہتر ہے اور نہ ہمارے ادارے کے لیے بہتر ہے۔‘
خواجہ آصف نے کہا کہ ’میری اپیل ہو گی تمام سیاسی عناصر سے، بشمول عمران خان، کہ اس معاملے کو متنازع نہ بنائیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’عمران خان دراصل ہماری حکومت کی لیجیٹمیسی کو چیلنج کر رہے ہیں۔‘ خواجہ آصف نے الزام عائد کیا کہ ’اس انٹرویو میں سوال اور جواب پہلے طے ہو چکے تھے۔‘
خواجہ آصف نے کہا کہ ’یہ ہماری حکومت کا حق ہے اور ہم وقت آنے پر اس حق کو استعمال کریں گے۔‘
ایک سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ اس معاملے پر کسی قسم کی گفتگو کا تبادلہ ابھی تک نہیں ہوا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
واضح رہے کہ وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے رواں سال 11 مئی کو بی بی سی کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ 'اگلے آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے پر عمران خان اپنی ذاتی مرضی کرنا چاہتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ایسا ہو کہ ان کے سیاسی مفادات اور حکمرانی کے تسلسل کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔'
کیا آرمی چیف کو ایک اور ایکسٹینشن مل سکتی ہے؟
پاکستان میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کوئی نئی بات نہیں۔ پہلے کمانڈر ان چیف جنرل ایوب خان سے لے کر موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ تک ایکسٹینشن کی کئی مثالیں موجود ہیں تاہم موجودہ چیف کی ایکسٹینشن سب سے متنازع رہی۔
تاہم اہم سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ آرمی چیف کو آئینی اور قانونی طور پر ایک اور ایکسٹینشن یا مدت ملازمت میں توسیع مل سکتی ہے؟
ایک سینیئر حکومتی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ آئینی اور قانونی طور پر آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع دینے کا راستہ تو موجود ہے تاہم ان کے مطابق یہ حکومت کا فیصلہ ہو گا۔
انھوں نے بتایا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو جب پہلی بار ایکسٹینشن ملی اور معاملہ عدالت میں گیا تو سپریم کورٹ کے حکم پر تحریک انصاف کی حکومت نے ایک قانون بنایا تھا جس کے تحت صدر پاکستان کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ وزیر اعظم کے مشورے پر آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کر سکتے ہیں۔
ان کے مطابق اس قانون سازی میں ایک اہم نکتہ آرمی چیف کی عمر کے حوالے سے بھی تھا۔ ’اگر وہ نہ ہوتا تو نئی توسیع ممکن نہ ہوتی۔‘
پاکستان آرمی ایکٹ ترمیم 2020
جنرل قمر جاوید باجوہ، جن کو سابق وزیر اعظم نواز شریف نے تعینات کیا تھا، نے 29 نومبر 2019 کو ریٹائر ہو جانا تھا تاہم اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے ان کی ریٹائرمنٹ سے تین ماہ قبل ہی انھیں تین برس کے لیے توسیع دینے کا اعلان کیا تھا جس کے خلاف عدالت سے رجوع کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہPMO.GOV.PK
عدالت نے نشان دہی کی کہ آئین کے آرٹیکل 243، آرمی ایکٹ 1952 اور آرمی ریگولیشنز رولز 1998 میں کہیں بھی مدت ملازمت میں توسیع یا دوبارہ تعیناتی کا ذکر نہیں۔
28 نومبر کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی مدت ملازمت میں چھ ماہ کی مشروط توسیع کی منظوری دیتے ہوئے حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ آرمی چیف کی توسیع یا دوبارہ تقرری کے حوالے سے پارلیمان کے ذریعے باقاعدہ قانون سازی کرے۔
یہ بھی پڑھیے
تحریک انصاف نے حیران کن طور پر اپوزیشن جماعتوں، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی حمایت سے، آرمی ایکٹ 1952 میں ترمیم کی جس میں آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی یا مدت ملازمت میں توسیع کی شق شامل کی گئی جس کے تحت صدر پاکستان وزیر اعظم کی تجویز پر آرمی چیف کی مدت ملازمت میں تین سال کے لیے توسیع کر سکتے ہیں یا دوبارہ تعیناتی کر سکتے ہیں۔
قانون کے تحت مدت ملازمت مکمل ہونے پر توسیع یا دوبارہ تقرر وزیر اعظم کا صوابدیدی اختیار ہو گا جسے کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔
قانون کے مطابق 64 برس کی عمر تک پہنچنے پر مذکورہ جنرل ریٹائرڈ تصور ہو گا۔ اس وقت جنرل باجوہ کی عمر 59 سال تھی۔
اس وقت کے وزیر قانون فروغ نسیم نے نو جنوری 2020 کو ہم نیوز کے میزبان ندیم ملک سے انٹرویو میں یہ توجیح پیش کی تھی کہ ’یہ قانون جنرل باجوہ کے لیے نہیں بنا اور قانون کے مطابق لیفٹینینٹ جنرل کی مدت ملازمت کی میعاد چار سال یا 58 سال کی عمر تک ہوتی ہے، ان میں سے جو پہلے آئے، اس کا مطلب ہے اگر کوئی لیفٹینینٹ جنرل 58 سال کی عمر میں تین سال کے لیے جنرل بنتا ہے اور اس کو ایک ٹرم کے لیے ایکسٹینشن دینا ہے تو تین سال اور درکار ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تو کیا آرمی ایکٹ کے تحت ان کی مدت ملازمت میں ایک اور توسیع ہو سکتی ہے؟
سابق وفاقی وزیر قانون بیرسٹر علی ظفر، جو اب تحریک انصاف کا حصہ ہیں، نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئینی طور پر یقینا آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع ہو سکتی ہے لیکن اس کا طریقہ وہی ہو گا جو وضع کر دیا گیا ہے۔
جب ان سے سوال کیا گیا کہ آیا آرمی ایکٹ کے تحت تین سال سے کم عرصے کے لیے بھی مدت ملازمت میں توسیع کی جا سکتی ہے تو انھوں نے کہا کہ تین سال کی مدت سے کم کے لیے توسیع کی جا سکتی ہے تاہم یہ فیصلہ وزیر اعظم کا ہی ہو گا اور انہی کی جانب سے سفارش پر صدر حکم دے سکتے ہیں۔
عمران خان کی تجویز اور سیاسی بحث
تحریک انصاف چیئرمین عمران خان کی یہ تجویز قانونی اور آئینی طور پر قابل عمل ہونے کے باوجود اس پر عمل درآمد کئی دیگر سوالات سے جڑا ہے جن میں سب سے اہم تو یہ ہے کہ کیا وزیر اعظم شہباز شریف اور حکومت ایسا کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں یا نہیں۔
صحافی اظہر عباس نے لکھا کہ ’تو عمران خان چاہتے ہیں کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی کی بجائے جنرل باجوہ کام کرتے رہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا جنرل باجوہ اس کو قبول کریں گے کیونکہ آئی ایس پی آر کہہ چکا ہے کہ جنرل باجوہ 29 نومبر کو ریٹائر ہو جائیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@AzharAbbas3
ایک صحافی نے نشان دہی کی کہ عمران خان نے تو جنرل باجوہ کا نام ہی نہیں لیا۔
صحافی سیرل المائڈا نے ٹویٹر پر لکھا کہ ’عمران خان کا جو بھی مطلب تھا، اب کوئی اور ایکسٹینشن نہیں ہونی چاہیے۔‘
صحافی طلعت حسین نے لکھا کہ ’جنرل قمر جاوید باجوہ ایک اور ایکسٹینشن لے کر اپنے کیریئر کی دوسری بڑی غلطی کریں گے چاہے وہ کتنی ہی چھوٹی معیاد کی کیوں نہ ہو۔ پہلی بڑی غلطی پہلی ایکسٹینشن تھی۔‘
سوشل میڈیا پر ایک اہم سوال یہ بھی تھا کہ عمران خان ایسا کیوں چاہتے ہیں؟
تحریک انصاف رہنما فواد چوہدری نے کہا کہ ’عمران خان نے کل ملک کے سیاسی مستقبل اور جمہوریت کی بحالی کا ایک عملی فارمولا پیش کیا ہے، اس فارمولے پر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ملک کی اقتصادی حالت مزید سیاسی عدم استحکام کا بوجھ نہیں اٹھا سکے گی۔ انتخابات کروانے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کا موجودہ اسٹیٹس کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
تاہم تحریک انصاف کے ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پارٹی میں اس تجویز پر دو مختلف آرا ہیں۔ ایک طبقہ سمجھتا ہے کہ اگر موجودہ حکومت نے آرمی چیف لگایا تو غالبا پارٹی کو نقصان ہو سکتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ایک دوسرا طبقہ بھی ہے جو اسے ایک یوٹرن سمجھتا ہے جن کے مطابق ایک اور ایکسٹینشن دینا غلط روایت بھی ہو گی اور ان جنرلز کو بھی نقصان ہو گا جو آرمی چیف بن سکتے ہیں اور توسیع کی صورت میں ریٹائر ہو جائیں گے۔‘












