آرمی ایکٹ: قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ میں بھی مسلح افواج کے سربراہان کی مدتِ ملازمت کے حوالے سے ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ میں بھی برّی فوج کے سربراہ سمیت تمام مسلح افواج کے سربراہان کی مدِت ملازمت سے متعلق قوانین میں ترامیم کے بلوں کی کثرتِ رائے سے منظوری دے دی گئی ہے۔
حکومت کی جانب سے مسلح افواج کے سربراہان کی مدتِ ملازمت کے معاملے پر متعلقہ قوانین میں ترمیم سپریم کورٹ کی جانب سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت کے معاملے پر دیے گئے احکامات کے بعد کی گئی ہے۔
سپریم کورٹ نے جنرل باجوہ کو چھ ماہ کی مشروط توسیع دیتے ہوئے حکم دیا تھا کہ اس سلسلے میں قانون سازی کی جائے ورنہ جنرل باجوہ چھ ماہ بعد ریٹائرڈ ہوں جائیں گے۔
ترمیمی بل کے تحت بری، فضائی اور بحری فوج کے سربراہان کو مدت ملازمت پوری کرنے پر صدرِ پاکستان وزیراعظم کے مشورے پر تین برس کے لیے دوبارہ تعینات یا ان کی مدتِ ملازمت میں اس مدت کے لیے توسیع کر سکیں گے۔
مسودۂ قانون کے تحت مدت ملازمت مکمل ہونے پر توسیع یا دوبارہ تقرر وزیر اعظم کا صوابدیدی اختیار ہو گا جسے کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔
قانون کے مطابق یہ توسیع صرف ایک مرتبہ ہی دی جا سکے گی اور 64 برس کی عمر تک پہنچنے پر مذکورہ جنرل ریٹائرڈ تصور ہو گا۔
سینیٹ سے منظوری کے بعد اب یہ بل صدرِ پاکستان کو دستخط کے لیے بھیجا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بدھ کو سینیٹ کے اجلاس میں سینیٹر ولید اقبال نے تینوں ترامیمی بلوں سے متعلق ایوانِ بالا کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کی رپورٹ پیش کی۔
اس کے بعد وزیر دفاع پرویز خٹک نے پاکستانی آرمی، ایئرفورس اور نیوی ایکٹس میں ترامیم کے بلوں کو پیش کیا جن کی شق وار منظوری لی گئی۔
نیشنل پارٹی کے سینیٹرز ان نے ترامیم کی مخالفت کی جبکہ جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان گروپ اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے ارکان نے بل کی منظوری کے خلاف احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔
اس سے قبل منگل کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے برّی فوج کے سربراہ سمیت تمام مسلح افواج کے سربراہان کی مدِت ملازمت سے متعلق قوانین میں ترامیم کے بلوں کی کثرتِ رائے سے منظوری دے دی ہے۔
منگل کو قومی اسمبلی نے اس بل کی منظوری دی تھی۔ قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی صدارت میں ہوا تو پاکستان آرمی ایکٹ 1952، پاکستان فضائیہ ایکٹ 1953 اور پاکستان بحریہ ایکٹ 1961 میں ترامیم کے لیے علیحدہ علیحدہ بل پیش کیے گئے۔
وزیر دفاع پرویز خٹک نے ایوانِ زیریں میں سروسز ایکٹس میں ترامیم سے متعلق تینوں بل پیش کیے جن کی شق وار منظوری دی گئی۔
حزب اختلاف کی بڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کی جانب سے اس بل کی حمایت کی گئی تاہم جے یو آئی ف، جماعت اسلامی اور سابق فاٹا سے دو آزاد ارکان علی وزیر اور محسن داوڑ نے ترامیم کی مخالفت میں ووٹ دیا اور یہ ارکان احتجاجاً اسمبلی سے واک آؤٹ بھی کر گئے۔
وزیرِ دفاع کی درخواست پر پاکستان پیپلزپارٹی کے رکنِ قومی اسمبلی نوید قمر نے تینوں ترامیمی بلوں کے بارے میں اپنی جماعت کی تجاویز واپس لے لیں۔
پیر کے روز پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ ان کی جماعت نے آرمی ایکٹ بل میں کچھ ترامیم قومی اسمبلی سیکریٹیریٹ میں جمع کروا دی ہیں اور اس حوالے سے اپوزیشن جماعتوں سے رابطہ بھی کیا گیا ہے۔
بلاول بھٹو کے مطابق ان کی جماعت نے تجویز دی تھی کہ وزیراعظم پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے سامنے پیش ہو کر آرمی چیف کے مدت ملازمت میں توسیع کی وجوہات ریکارڈ کرائیں۔
انھوں نے کہا کہ آرمی ایکٹ کے قواعد و ضوابط کو خفیہ رکھا گیا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ حکومت انھیں پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
قومی اسمبلی سے بل کی منظوری کے بعد سپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس بدھ کی شام چار بجے تک ملتوی کر دیا تھا۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ سیاسی ایشوز میں اختلاف رائے ہونا الگ بات ہے لیکن منگل کو ہونے والی قانون سازی میں سیاسی جماعتوں نے ثابت کر دیا کہ سب قومی مفاد میں متحد ہیں۔
انھوں نے امید کا اظہار کیا کہ یکجہتی کا یہ عمل مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔
ادھر رکن اسمبلی محسن داوڑ نے بل کی منظوری کے بعد ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’ہم نے واک آؤٹ سے قبل آرمی ایکٹ کے خلاف ووٹ دیا۔ پارلیمان نے ایک ربر کی مہر کی مانند کام کیا۔ اختلافی آوازیں چند ہی تھیں مگر سپیکر نے انھیں بھی بولنے کی اجازت نہیں دی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کے تاریک دنوں میں سے ایک ہے۔ اس سے ابھرنے میں بہت وقت لگے گا۔‘
گذشتہ روز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کی جانب سے مسلح افواج کے سربراہان اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی مدت ملازمت سے متعلق تینوں ترامیمی بلز کو دوبارہ منظور کیا تھا۔
قائمہ کمیٹی نے جس مسودۂ قانون کی منظوری دی، اس کے تحت بری، فضائی اور بحری فوج کے سربراہان کو مدت ملازمت پوری کرنے پر صدرِ پاکستان وزیراعظم کے مشورے پر تین برس کے لیے دوبارہ تعینات یا ان کی مدتِ ملازمت میں اس مدت کے لیے توسیع کر سکیں گے۔
مسودۂ قانون کے تحت مدت ملازمت مکمل ہونے پر توسیع یا دوبارہ تقرر وزیراعظم کا صوابدیدی اختیار ہو گا جسے کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔
قانون کے مطابق یہ توسیع صرف ایک مرتبہ ہی دی جا سکے گی اور 64 برس کی عمر تک پہنچنے پر مذکورہ جنرل ریٹائر تصور ہو گا۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 28 نومبر کو فیصلہ دیا تھا کہ پارلیمان آرمی چیف کے عہدے میں توسیع سے متعلق قانون سازی کرے۔
اس فیصلے کے بعد آرمی ایکٹ کے احکامات میں ترامیم کا فیصلہ کیا گیا تاکہ صدر مملکت کو بااختیار بنایا جائے کہ وہ وزیراعظم کے مشورے پر تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کی مدت ملازمت اور اس حوالے سے قیود و شرائط پر عمل کر سکیں۔










