آرمی چیف قمر باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع پر سیاسی جماعتیں ہم آواز: یہ سیاسی چال ہے، مفاد پرستی یا مجبوری؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستانی پارلیمان کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے برّی فوج کے سربراہ سمیت تینوں سروسز چیفس کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق بل بغیر کسی ترمیم کے منظور کر لیے ہیں جس کے بعد اب سنیچر کو یہ ووٹنگ کے لیے قومی اسمبلی میں پیش ہوں گے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا اجلاس جمعے کو کیپٹن ریٹائرڈ جمیل احمد کی سربراہی میں ہوا جس میں حکومت اور حزب مخالف کی جماعتوں کے ارکان پارلیمان نے حصہ لیا۔
اس اجلاس میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے ارکان بھی قومی اسمبلی کی کمیٹی کی دعوت پر شریک ہوئے۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق قائمہ کمیٹی نے جس مسودۂ قانون کی منظوری دی اس کے تحت بری، فضائی اور بحری فوج کے سربراہان کو مدت ملازمت پوری کرنے پر صدرِ پاکستان وزیراعظم کے مشورے پر تین برس کے لیے دوبارہ تعینات یا ان کی مدتِ ملازمت میں اس مدت کے لیے توسیع کر سکیں گے۔
مسودۂ قانون کے تحت مدت ملازمت مکمل ہونے پر توسیع یا دوبارہ تقرر وزیر اعظم کا صوابدیدی اختیار ہو گا جسے کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔
قانون کے مطابق یہ توسیع صرف ایک مرتبہ ہی دی جا سکے گی اور 64 برس کی عمر تک پہنچنے پر مذکورہ جنرل ریٹائر تصور ہو گا۔
قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے اجلاس کے بعد وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ اجلاس میں حزب مخالف کی طرف سے اس بل میں کوئی ترمیم تجویز نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اُنھوں نے کہا کہ اس بل کی منظوری میں کوئی جلدبازی نہیں کی گئی ہے۔ اُنھوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ یہ بل کسی شخصیت کی وجہ سے لایا جا رہا ہے۔
وزیر قانون نے اس بل کو منظور کرنے پر حزب مخالف کی جماعتوں اور حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کا شکریہ ادا کیا۔
وفاقی وزیر دفاع اجلاس کے دوران اُٹھ کر قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے چیمبر میں گئے تو صحافیوں نے سوال کیا کہ کیا بل کو منظور کرنے میں کوئی ابہام پیدا ہو گیا ہے جس پر وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
مشترکہ قائمہ کمیٹی کے اس اجلاس میں جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے نمائندے نے اختلاف کرتے ہوئے آرمی چیف کو توسیع نہ دینے کا مطالبہ کیا۔
حزب مخالف کی جماعت جمیعت علمائے اسلام کے سینیٹر طلحہ محمود نے بھی اس بل کے بارے میں کچھ سوالات اُٹھائے تاہم وزیر قانون اور وزیر دفاع نے ان سوالوں کے جواب دیے۔
وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی کے مطابق قائمہ کمیٹی سے مجوزہ بل کی منظوری کے بعد اب اسے سنیچر کے روز ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔
قومی اسمبلی کا اجلاس سنیچر کی صبح 11 بجے دوبارہ طلب کیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی سے شق وار منظوری کے بعد اس بل کو منظوری کے لیے اسی روز سینیٹ کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس سے قبل جمعے کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت شروع ہوا تو پارلیمان کے قواعد کو معطل کرتے ہوئے وزیر دفاع پرویز خٹک کو پاکستان آرمی (ترمیمی) ایکٹ 2020، پاکستان ایئر فورس (ترمیمی) ایکٹ 2020 اور پاکستان نیوی (ترمیمی) ایکٹ 2020 ایوان کے سامنے پیش کرنے کی اجازت دی گئی۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ابتدا میں حکومت کی کوشش تھی کہ یہ بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیجے بغیر آج ہی پارلیمان سے منظور کروا لیے جائیں تاہم حزب مخالف کی جماعتوں نے جمعے کی صبح قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل حکومتی کمیٹی سے ہونے والی اجلاس میں اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور یہ موقف پیش کیا کہ اس معاملے میں پارلیمانی قواعد و ضوابط کی پیروی کی جائے۔
بل ایوان میں پیش ہونے سے قبل پاکستان مسلم لیگ نواز کے پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف نے سپیکر اسد قیصر سے استدعا کی کہ زیر حراست ممبران قومی اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے جائیں تاکہ وہ ان بلوں پر ہونے والی رائے شماری میں حصہ لے سکیں جس پر سپیکر اسد قیصر نے اپنی رضا مندی کا اظہار کیا۔
سیاسی جماعتیں توسیع کی تائید پر ’مجبور‘ کیوں؟
ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کی جانب سے پاکستان کی بری فوج کے سربراہ قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلقہ قانون سازی کی حمایت نے عوامی حلقوں میں یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی جیسی پارٹیاں اپنے سیاسی بیانیے سے ہٹ کر توسیع کی تائید کرنے پر کیوں مجبور ہوئیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے جمعہ کو پارلیمان کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں بڑی اپوزیشن (پاکستان مسلم لیگ) جماعت نے اپنے اس بل کی غیر مشروط حمایت کے فیصلے سے آگاہ نہیں کیا اور اگر ایسا کر دیا جاتا تو بہتر ہوتا۔
’ہمارے قومی اسمبلی میں 72 ووٹ ہیں۔ پیپلز پارٹی اتنے ووٹوں کے ساتھ اس بل میں ایک بھی فل سٹاپ یا کاما تبدیل نہیں کر سکتی ہے۔ میں بل کو روک نہیں سکتا تھا مگر جو کر سکتا تھا موجودہ جمہوری ماحول میں ہم نے وہ کیا۔‘
بلاول کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں پیپلز پارٹی نے حکومت کو بتا دیا تھا کہ اگر انھیں ہماری سپورٹ چاہیے تو انھیں یہ بل پاس کروانے کے لیے پارلیمانی طریقہ کار کو اپنانا ہو گا۔ ’اگر یہ بل قائمہ کمیٹی میں جائے بغیر پاس ہوتا تو پارلیمان کے لیے اچھا نہ ہوتا۔ اب یہ بل قائمہ کمیٹی جائے گا جو پارلیمان کی جیت ہے۔‘
جبکہ اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما خواجہ آصف کہہ چکے ہیں کہ انھیں پارٹی کی سینیئر قیادت نے ہدایت کی ہے کہ اس حوالے سے ہونے والی قانون سازی کی مخالفت نہ کی جائے اور یہ کہ مسلم لیگ قیادت کی ہدایت پر عمل پیرا ہو گی۔
چند تجزیہ کار اسے مسلم لیگ نواز کی اقتدار پرستی اور سیاسی چال قرار دے رہے ہیں جبکہ دوسرے اسے مجبوری اور مفاد پرستی سے تعبیر کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPPP Media Cell
نمائندہ بی بی سی اعظم خان سے بات کرتے ہوئے صحافی اور سیاسی تجزیہ کار عارفہ نور کا کہنا تھا کہ نون لیگ میں شروع ہی سے دو بیانیے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں، کبھی ایک حاوی ہوتا تھا تو کبھی دوسرا اور گذشتہ کچھ عرصے میں ہمیں زیادہ ’حقیقت پسندانہ‘ سوچ دیکھنے کو ملی۔
صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ سوال کرتے ہیں کہ پاکستان میں سیاسی پارٹیاں اپنے اصولوں پر کہاں چلتی ہیں؟
’یہ سب جماعتیں اقتدار پرست ہیں اور میرے خیال میں ان کو ایسا ہونا بھی چاہیے۔‘
سہیل وڑائچ کے خیال میں نون لیگ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق آرمی ایکٹ میں ترمیم کی ’مکمل اور غیر مشروط‘ حمایت کی ذریعے فوج کو عمران خان سے دور اور اپنے ساتھ قریب دیکھنا چاہتی ہے۔
سینیئر صحافی عارف نظامی نے بی بی سی کو بتایا کہ مسلم لیگ نون کی سیاست ہمیشہ موقع پرستانہ اور مفاد پرستانہ رہی ہے۔ جب ان کو سوٹ کرتا تھا تو جی ٹی روڈ کا روٹ لے لیتے ہیں، ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگاتے ہیں اور چل پڑتے ہیں۔
عارف نظامی کہتے ہیں کہ درحقیقت یہ شہباز شریف کے بیانیے کی جیت ہے۔

،تصویر کا ذریعہPMLN
انھوں (شہباز شریف) نے پہلے ہی اپنے بڑے بھائی کو یہ بتایا تھا کہ ہماری اس طرح کی اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست نہیں ہے اور اس بات پر ماضی میں بھی ووٹر کو مطمئن کر لیا تھا اور شاید آئندہ بھی یہ ایسا کر لیں۔ انھوں نے کہا کہ سیاست میں کچھ مشروط نہیں ہوتا اور کچھ عرصے قبل ہی شہباز شریف کے بیانیے کے ذریعے ہی نون لیگ کو کچھ رعائیتیں بھی ملی ہیں۔
عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ اس وقت ایسی جمہوریت ہے جس میں اختلافی آواز نکل ہی نہیں رہی ہے۔ ان کے خیال میں سیاسی جماعتوں نے اپنے ساتھ مصلحتیں اور مجبوریاں لگا دی ہیں۔ ’وہ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ چلیں ٹھیک ہے ہم یہ کر دیتے ہیں لیکن ایسا ہونا نہیں چاہیے۔‘
سہیل وڑایچ کے خیال میں سیاسی جماعتیں اپنے ووٹرز کو بھی یہ بتانے میں بھی کامیاب ہو جائیں گے کہ اس کے علاوہ ان کے پاس اور کوئی راستہ موجود ہی نہ تھا۔ انھوں نے کہا کہ ووٹرز کی بھی یہی خواہش ہوتی ہے کہ انھیں اقتدار مل جائے۔
عارفہ نور کے خیال میں سیاست میں ایسا ہوتا ہے، جہاں تک تعلق ووٹر کو منانے کا ہے تو انتخابات کا مرحلہ ابھی دور ہے۔
عارف نظامی کے مطابق اس سب کے باوجود وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مسلم لیگ نون اس وقت بکھری ہوئی ہے۔ جماعت کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال اور شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز حراست میں ہیں جبکہ اے این ایف کے بعد رانا ثنا اللہ کو نیب نے طلب کر لیا ہے اور قیادت آرام سے یہ سب ہوتا باہر سے دیکھ ہی ہے۔ دوسری جانب مریم نواز نے عملی طور پر سیاست سے کنارا کشی اختیار کر لی ہے۔












