پارلیمانی اجلاس کا آنکھوں دیکھا حال: ’اُٹھو کورم کی نشاندہی کرو‘

پاکستانی پارلیمان

،تصویر کا ذریعہAFP

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پارلیمنٹ کی تاریخ میں بہت کم ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں حکومتی بینچز قانون سازی یا حزب مخالف کی جماعتوں کے ارکان کی طرف سے سوالات کا جواب دینے کی بجائے کورم کی نشاندہی کریں۔ جمعرات کو منعقد ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس جمعرات کو اپنے مقررہ وقت سے ایک گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا اور ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری جو آج کل سپیکر کی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہیں، ایک گھنٹے بعد ایوان میں تشریف لائے۔

یہ اجلاس شروع ہونے سے پہلے حکومتی بینچ اور حزب مخالف کی جماعتوں کے اتنے ارکان موجود تھے کہ کورم پورا تھا اور قومی اسمبلی کا اجلاس جاری رکھا جا سکتا تھا۔

سپیکر کے حکم پر جب وقفہ سوالات شروع ہوا تو زیادہ تر سوالات وزیر توانائی عمر ایوب کی وزارت سے متعلق تھے لیکن ایوان کو بتایا گیا کہ وہ ’کسی ضروری کام‘ کے سلسلے میں ایوان میں نہیں آئے۔

عمر ایوب کی وزارت سے متعلق سوالات کے جواب قومی اسمبلی کے گزشتہ اجلاس سے موخر چلے آرہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

عمر ایوب کی عدم موجودگی پر حزب مخالف کے ارکان غصے میں آگئے۔

سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف نے نکتۂ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حزب مخالف کی جماعتوں کے ارکان اتنی محنت سے مختلف وزارتوں کی کارکردگی سے متعلق سوالات تیار کرتے ہیں لیکن اُنھیں جواب ہی نہیں دیا جاتا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر جواب دیا بھی جاتا ہے تو اس پر لکھا جاتا ہے کہ اس کا جواب قومی اسمبلی کی لائبریری میں رکھ دیا گیا ہے۔

حکومتی بینچوں میں موجود ارکان نے جب یہ صورت حال دیکھی کہ حزب مخالف کی جماعتوں کے ارکان اس معاملے پر قومی اسمبلی کے سپیکر پر چڑھائی کرنے والے ہیں تو ان میں سے متعدد ارکان ایوان سے باہر چلے گئے اور اس کے بعد حکومتی بیچز پر بیٹھے ہوئے ارکان نے پاکستان تحریک انصاف کے رکن جنید اکبر سے کہا کہ وہ کورم کی نشاندہی کریں۔

باجوہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پھر ایسا ہی ہوا اور قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے اہلکاروں نے ایوان میں موجود ارکان کی گنتی شروع کردی۔

گنتی کرنے پر معلوم ہوا کہ ایوان کی کارروائی چلانے کے لیے مطلوبہ تعداد موجود نہیں ہے۔

اس دوران حزب مخالف کی جماعتوں کے ارکان سپیکر سے بولنے کی اجازت طلب کرتے رہے لیکن سپیکر نے کہا کہ جب تک گنتی کا عمل مکمل نہیں ہو جاتا اس وقت تک کسی کو بولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

حکومتی بینچز اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے اور سپیکر نے اجلاس کی کارروائی اس وقت تک موخر کردی جب تک کورم پورا نہیں ہوجاتا۔

سپیکر کے اس رویے کے خلاف پاکستان پیپلز پارٹی نے ایوان سے واک آوٹ کر دیا۔

اس دوران حکومتی بینچز پر بیٹھنے والے ایم این ایز کی گیلری میں موجود تھے جہاں پر وہ بار بی کیو اور گرم چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔

آج پارلیمان میں یوں لگا کہ حکومت کے لیے شاید قانون سازی اتنی اہم نہیں تھی جتنا آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق قانون سازی کے لیے حزب مخالف کی جماعتوں کو اعتماد میں لینا ہے۔

وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک اور وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان اور سینیٹ میں قائد ایوان شبلی فراز، آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے اتنے زیادہ متحرک دکھائی دیے کہ سابق حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ قاف کا وہ دور یاد آگیا جب ان کی قیادت سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے پہلے لیگل فریم ورک آرڈر کو پارلیمنٹ سے قانونی تحفظ دلوانے کے لیے سرگرم تھی۔

تصویر

پاکستان مسلم لیگ قاف کے بارے میں عام تاثر یہی ہے کہ اس جماعت کی تشکیل میں اس وقت کے آرمی چیف پرویز مشرف کی حمایت حاصل تھی۔

یہاں پر بات صرف پاکستان تحریک انصاف کے ارکان کی نہیں ہے بلکہ حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے ارکان بھی ایوان میں نہیں آئے اور وہ پارلیمانی اجلاس طلب کرکے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق قانون سازی کے لیے حکومت کی حمایت کرنے کے بارے میں سوچ بچار کرتے رہے۔

قومی اسمبلی کے ایوان سے چند قدم کے فاصلے پر ایک میوزیم بھی بنایا گیا ہے جس میں سنہ 1973 کے آئین کے لیے کام کرنے والے اہم سیاسی رہنماوں کو ایک جگہ پر بیٹھے ہوئے دکھایا گیا ہے اور تصویر کے مطابق یہ سیاسی رہنما بڑی سنجیدگی سے اس معاملے پر کام کر رہے ہیں۔

ایک طرف اس تصویر میں سیاست دان متفقہ آئین کو منظور کروانے کے لیے کام کر رہے ہیں جبکہ دوسری طرف سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ ارکان اسمبلی قومی اسمبلی کی عمارت میں موجود ہوتے ہوئے ایوان میں آنے کی زحمت گوارہ نہیں کرتے۔